Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ اس کا راز کیا ہے کہ سینیگال کے لاکھوں لوگ ان پر فدا ہیں اور صدر ریاست ان کو خصوصی سلام بھیجواتے ہیں۔ اس کا راز کٹی سوسائٹی کی تاریخ ہے۔ پہلے شیخ جو اپنے کو خادم رسول اللہ کہتے تھے، وہ اس مقام ( طوبیٰ ) میں آئے۔ انھوں نے خدمت اور تقدس کی تاریخ بنائی۔ اس کے بعد مختلف بزرگ اس تاریخ میں اضافہ کرتے رہے۔ اس طرح تقدس کی ایک لمبی تاریخ ہے جس کے اوپر موجودہ بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ تمام " شیوخ " کا حال بھی یہی ہے۔ ہر ایک کسی قدیم ادارہ یا قدیم تحریک کی بنائی ہوئی تاریخی روایات کی زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایک ہے خود ایک تاریخ بنانا، اور دوسری چیز ہے سابقہ تاریخ کو استعمال کرنا۔ بعد کو آنے والا زمین کے اوپر جگہ پاتا ہے، مگر تاریخ بنانے والے کے حصہ میں جو چیز آتی ہے ، وہ یہ کہ وہ زمین کے نیچے دفن ہو کر رہ جائے۔ طوبیٰ میں ایک افریقی احمد بگسی میرے قریب آئے۔ انھوں نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں۔ میں نے بتایا کہ ہند سے۔ وہ عربی میں کلام کر رہے تھے۔ انھوں نے الاسلام تجدی کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ کیا آپ اس کتاب کے مصنف کو جانتے ہیں۔ کیا وہ زندہ ہیں ( هل تعرف مولف هذا الكتاب ، اھوجی ، میں خاموش رہا۔ انھوں نے کہا آپ عربی نہیں سمجھتے ہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ میں ہی اس کا مصنف ہوں ۔ وہ بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیتے رہے۔ اس قسم کے واقعات میرے ساتھ ہر سفر میں پیش آتے ہیں۔ یہاں " مکتبة الشیخ " میں جانا ہوا۔ اس کے لائبریرین ہم لوگوں کو لائبریری کا ایک حصہ دکھا رہے تھے۔ وہ ایک الماری کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ہمارے پاس ہر موضوع کی کتابیں ہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے چند کتابیں نکال کر دکھائیں۔ پھر انھوں نے ایک کتاب نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا: هذا الاسلام يتحدى للمفكر الاسلامي الكبير وحيد الدّین خان۔ لائبریرین کے اس جملہ کو سن کر میرے ساتھی ہنس پڑے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مصنف یہ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ اس لائبریری کے ایک حصہ میں شیخ کی تالیفات مجلد کر کے رکھی ہوئی ہیں۔ کچھ مطبوعہ اور بیشتر قلمی ۔ یہ تالیفات عقائد اور تصوف وغیرہ موضوعات پر ہیں۔ ایک کتاب میں نے دیکھی۔ اس میں تصوف اور صوفی پر بحث تھی۔ صوفی کی تعریف یہ کی گئی تھی کہ صوفی وہ ہے جو انسانوں سے منقطع ہو کر اللہ سے متصل ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page