Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

نے خطبہ شروع کیا۔ خطبہ حسب معمول مقفیٰ انداز میں تھا۔ اس کا قافیہ "نا" تھا۔ امام نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اس میں قافیہ کے مطابق اس طرح کے الفاظ تھے۔ مثلاً سراً وعلناً ، ما بُعد و مادنیٰ ۔ وغیرہ۔ نماز کے بعد باہر نکلے تو مانگنے والوں کی قطار تھی۔ بھیک مانگنے کا رواج ہندوستان ہی کی طرح سینیگال میں بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم ہندوستان کے مقابلہ میں غالباً کم ہے۔ ۱۲ مئی کی صبح مجھے دکار سے واپس روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں اپنے کمرہ کی کھڑکی کھول کر باہر کی طرف دیکھا تو سمندر اور آسمان اور اڑتی ہوئی چڑیوں اور سورج کی ملکی روشنی کے مناظر تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے سمندر اپنی مسلسل اٹھتی ہوئی موجوں کے ساتھ اذِ ذکر اللہ وجلت قلوبھم کی کیفیت تمثیل کر رہا ہے۔ چڑیال حمد خداوندی کے نغمے بکھیرتی ہوئی فضا میں اڑ رہی ہیں۔ سورج اپنا آفاقی تاپر جلا رہا ہے تاکہ خدا کی نشانیوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئے ۔ ٹھنڈی ہواؤں میں ہلتے ہوئے درخت زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدا کے کرشموں (آلاء) کو دیکھ کر تمہارے اندر تموج (thrill) پیدا نہیں ہوتا تو تم نے اس دنیا میں نہ کچھ دیکھا اور نہ اس دنیا میں کچھ پایا۔ اس دنیا کی ہر چیز حمد خداوندی کی تسبیح میں مشغول ہے۔ مسبحین کے اس عظیم اجتماع میں صرف ایک انسان ہے جو رب العالمین کا تسبیح خواں نہ بن سکا۔ جو پتھر کی طرح سخت دل ثابت ہوا ، بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت۔ ہوٹل کے اس کمرہ میں میں ایک ہفتہ سے زیادہ مقیم رہا۔ آج جب اس کو چھوڑ کر باہر نکلا تو خیال آیا کہ اسی طرح مجھے ایک روز موجودہ دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔ آج میں منتظمین کانفرنس کی مقرر کی ہوئی تاریخ کے تحت ہوٹل کا کمرہ چھوڑ رہا ہوں ، کل خدا کی مقرر کی ہوئی تاریخ کی بنا پر مجھے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جانا ہوگا۔ کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آچکا ، اور کیسا عجیب ہوگا وہ وقت جو آنے والا ہے۔ دکار سے جنیوہ جاتے ہوئے راستہ میں لندن کا انگریزی اخبار ٹیلی گراف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page