ایک سفر
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
(The Daily Telegraph) 11 مئی 1990 پڑھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ درج تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ کے تمدن شہر ہم قسم کی آوازوں کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔ مثلاً سوتے وقت لوگوں کا خراٹے لینا ۔ وغیرہ ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مشہور گن فائیٹر جان وسلی (John Wesley) ایک بار ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ طے ہوئے کمرہ سے خراٹے کی آواز آنے لگی۔ اس سے وہ اتنا بدحواس (upset) ہو اک وہ دیوار توڑ کر دوسرے کمرہ میں داخل ہوا اور اس آدمی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ہیلتھ سروینز سٹاف کے ایک ذمہ دار پیٹر پیلٹ (Peter pallot) نے لکھا ہے کہ ہماری آبادیوں میں روزانہ برپا ہونے والے ۴۸ قسم کے شور جو لوگوں کو پاگل بنا رہے ہیں، ان میں سب سے زیادہ برا شور کتوں کا بھونکنا ہے : The sound of dogs barking is the worst of 48 everyday noises that drive people mad اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہذب ممالک اپنی ظاہری رونقوں کے باوجود کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ تاہم مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ اس قسم کی باتوں کو لے کر یہ کہا جائے کہ اس کا حل اسلامی نظام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک یا دوسری قسم کے مسائل باقی رہیں گے۔ خواہ یہاں اسلامی نظام ہو یا غیر اسلامی نظام ۔ مسائل اور مصائب سے خالی دنیا صرف آخرت میں ممکن ہے۔ اور ہم کو اسی کی طرف دعوت دینا چاہئے ۔ اسلامی قانون کا نفاذ حقیقہ کسی معاشرہ کی اجتماعی اطاعت ہے، جس طرح عبادت ایک فرد کی انفرادی اطاعت ہوتی ہے۔ اسلامی قانون کے نفاذ کو مسائل سے آزاد دنیا کی تعمیر کا نام دینا صرف سطحیعت ہے۔ مزید یہ کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ کسی ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ کے باوجود جب مسائل کا خاتمہ نہ ہو تو لوگ خود اسلام سے مایوس ہو جائیں یا اس کے بارہ میں بری رائے قائم کرنے لگیں۔ مسائل کے حل کی بات جزئی طور پر صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر وہ کلی طور پر درست نہیں۔ دکار سے جنیو اجاتے ہوئے جہاز میں میرے قریب ایک صاحب تھے۔ تعارف کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader