Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

ان الفاظ کی پوری معنویت اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ قدیم زمانہ میں شرک ساری دنیا میں تہذیبی طاقت بن کر چھایا ہوا تھا۔ توحید کی بنیاد پر بسر ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس مشرکانہ غلبہ کو ختم کر دیا۔ اگر یہ مشرکانہ غلبہ ختم نہ کیا جاتا تو دنیا میں کبھی وہ دور نہیں آسکتا تھا جس کو آج سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے (لاحظہ ہو: اسلام دورِ جدید کا خالق) فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر حفاظتی ہدایت (security advice) کے عنوان کے تحت دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ اپنے سامان کو رکھوالی کے بغیر نہ چھوڑیں: Do not leave your baggage unattended. اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی معاملہ آدمی کو خود اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہے۔ ہر آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگرانارہے۔ ورنہ اس کا نفس اس کو تباہی کے راستہ پر ڈال دے گا اور پھر کوئی چیز اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہ بن سکے گی۔ ۱۲ مئی کی شام کو فرینکفرٹ پہنچا۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ نصرت کا خصوصی معاملہ فرمایا۔ میرا اندازہ تھا کہ فرینکفرٹ میں چند گھنٹہ انتظار کے بعد مجھے اگلی فلائٹ دہلی کے لئے مل جائے گی۔ مگر یہ میرے اندازہ کی غلطی تھی۔ یہاں دراصل مجھے پندرہ گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ میں لفتھان کے کاؤنٹر پر گیا کہ آپ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس جرمنی کا ویزا ہے ۔ میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ جرمنی کے اندر داخل نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ کے پاس ویزا ہوتا تو ہم شہر کے کسی ہوٹل میں آپ کے لئے ٹھہرنے کا انتظام کر دیتے ۔ میں نے کہا کہ آپ میری مدد کریں کہ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔ کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی خاتون نے ٹیلی فون پر کسی سے بات کی۔ بات کرنے کے بعد کہا کہ آپ یہاں ٹھہرئیے۔ ابھی ایک لیڈی آ رہی ہیں وہ آپ کو بتائیں گی۔ چند منٹ کے بعد ایک جرمن خاتون آگئیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں کمل تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹرے جس میں کھانے پینے کا سامان تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ شہر میں تو داخل نہیں ہو سکتے۔ یہاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں ٹھہریئے۔ یہ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page