Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسافر جو بچ گیا تھا، اس نے اخباری نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھروسہ جہاز کے عملہ کے اوپر تھا: My faith was in the crew. ایک جہاز کے دو آدمی ایک طرح کے حالات میں پہنچ کر بالکل دو قسم کے تاثر کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک اپنے خدا کی طرف دیکھتا ہے، دوسرا، جہاز چلانے والے انسانوں کی طرف۔ یہ مشہور حدیث کے مطابق، غالباً تربیت کے فرق کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں "مسیح" کی اہمیت بٹھائی تھی، اس کے ذہن نے اس کو مسیح کی یاد دلائی، اور جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں "عملہ" کی اہمیت بٹھارکھی تھی، اس کے ذہن نے اسے بتایا کہ اس کو اس نازک موقع پر اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ جہاز کا عملہ ہے۔ ظہر اور عصر کی نماز جنیوا ایئر پورٹ پر پڑھی۔ اس وقت میں ایئر پورٹ کے گیٹ نمبر ۴۴ پر اگلے جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میرے سامنے کھلے ہوئے میدان میں مختلف ہوائی کمپنیوں کے جہاز کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر پر گڑ گڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جہاز ایئر پورٹ پر اترا، یا کوئی جہاز یہاں سے روانہ ہوا۔ اسی طرح دنیا میں ہر وقت کوئی انسان آ رہا ہے ، اور کوئی یہاں سے رخصت ہو رہا ہے۔ دنیا آنے اور جانے کی جگہ ہے۔ بسنے اور آباد ہونے کی جگہ صرف وہ ہے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کے لئے سوئس ایئرہم ۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں سوئس ایئر کا میگزین (Swissair Gazette) مئی ۱۹۹۰ء کا شمارہ دیکھا۔ اس شمارہ میں مصر اور دریائے نیل کے بارہ میں ایک مفصل مضمون شامل تھا۔ قدیم مصر میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی، ان میں سے کچھ بتوں کی تصویریں اس میں دی گئی تھیں۔ ان تصویروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قدیم مصر کے لوگوں نے بت تراشی میں غیر معمولی کمال حاصل کیا تھا۔ ایک بت کی تصویر کے نیچے بامعنی طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔ فرعون کے زمانہ میں وہ پوجے جاتے تھے۔ آج وہ ثقافتی ورثہ کا ایک حصہ ہیں : In pharaonic times they were worshipped, today they are part of a cultural patrimony.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page