ایک سفر
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زمین کی یہ حیرت ناک گردش اتنی صحت کے ساتھ مسلسل قائم نہ رہ سکے۔ جہاز میں نیویارک کا انگریزی اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹ্রিبیون (۱۲۔۱۳ مئی، ۱۹۹۰) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۶ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : From Kuwait to Algiers, A new political openness مضمون میں دکھایا گیا تھا کہ مسلم ملکوں میں ہر جگہ پروڈیموکریسی موومنٹ ابھر رہی ہے۔ ۲۲ سال کے بعد دسمبر ۱۹۸۹ میں اردن میں الیکشن ہوا۔ امیر کویت نے ۱۹۸۶ میں پارلیمنٹ توڑ دی تھی ، اب کویت میں دوبارہ الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح تیونس اور الجیریا میں جون ۱۹۹۰ ء میں میونسپل الیکشن کئے جا رہے ہیں۔ وغیرہ۔ اس مضمون کے لکھنے والے سٹر گولڈ اسٹین (Eric Goldstein) تھے۔ مذکورہ قسم کی مثالیں دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ اکثر عرب حکومتیں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کو ایک ایسی حد تک گوارا کر رہی ہیں جو پچھلے سالوں تک لامعلوم تھا : Many Arab governments are tolerating independent مغرب کے دانشور آج کل اپنے آپ کو ایک نئے یقین کی حالت میں پا رہے ہیں۔ سوویت یونین میں کمیونسٹ نظام کی ناکامی اور جمہوری نظام کی طرف جھکاؤ نے ان کو یہ یقین دیا ہے کہ ان کا نظام زیادہ بہتر ہے۔ اب مسلم ملکوں میں جمہوریت کی طرف رجحان ان کے یقین میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام نظامات ختم ہو کر مغربی جمہوریت کے نظام کے لئے جگہ خالی کر دیں گے۔ اسلام نے انسانی تاریخ میں پہلی بار جمہوریت کے دور کا آغاز کیا تھا۔ مگر بعد کے دور میں مسلم حکمرانوں کے غیر جمہوری عمل نے غیر ضروری طور پر مغرب کو اس فخر کا موقع دے دیا کہ ان کے نظام کو (اسلام سمیت) تمام دوسرے نظاموں پر برتری حاصل ہے۔ اگر آپ جغرافی نقشہ کو اپنے سامنے رکھیں تو کاغذی نقشہ کے اعتبار سے میرے لئے سیدھی روٹ یہ نظر آئے گی : دکار۔ نجر۔ جدہ۔ دہلی۔ یعنی افریقی علاقہ میں سفر کرتے ہوئے ایشیا میں داخل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader