ایک سفر
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جانا۔ مگر میں نے دکار ۔ جنیوا۔ فرینکفرٹ۔ دہلی کا راستہ اختیار کیا۔ یعنی میں افریقہ سے یورپ گیا، اور یورپ سے لوٹ کر ایشیا کی طرف آیا۔ اس کی وجہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا صنعتی پچھڑتا پن ہے۔ آج کا زمانہ مواصلات (communications) کا زمانہ ہے۔ مگر مواصلات کے جدید ذرائع زیادہ تر مغربی ملکوں میں مہیا ہوتے ہیں۔ اس لئے ایشیا اور افریقہ کے درمیان روابطہ مغرب ہی کے واسطہ سے قائم ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما آخری جو چیز جانتے تھے، وہ صرف سیاست تھی۔ اپنے روایتی ذہن کی بنا پر انھوں نے سیاست ہی کو سب کچھ سمجھا۔ وہ سیاست کے میدان میں مغرب سے ٹکراؤ کرتے رہے۔ وہ سائنس کی اہمیت سے بالکل بے بہرہ تھے۔ چنانچہ سیاست کے علاوہ باتوں کو وہ سمجھ نہ سکے اور نہ ان باتوں میں انھوں نے مسلمانوں کو بروقت رہنمائی دی۔ موجودہ زمانہ کی پوری مسلم تاریخ میں کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں جس کے اقوال و اعمال سے ثابت ہو کہ وہ سائنسی ذہن رکھتا تھا یا سائنس کی اہمیت سے واقف تھا۔ اسی غفلت کا یہ نتیجہ ہے کہ سیاسی زنجیروں سے رہائی کے باوجود تمام مسلم ممالک مغرب کی غیر سیاسی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ سائنس اور ٹکنالوجی میں اپنے پیچھے پن کی وجہ سے وہ تمام جدید شعبوں میں مغرب کی مدد لینے پر مجبور ہیں۔ ۱۳ مئی ۱۹۹۰ کو دہلی پہنچا۔ ایئر پورٹ پر امیگریشن سے فارغ ہو کر آگے بڑھا تو کسٹم کے مقام پر لوگوں کی دار و گیر ہو رہی تھی۔ ہر آدمی اپنا سامان لئے ہوئے کسٹم والوں کے چکر میں تھا۔ اور سامان کھول کھول کر ہر ایک کی جانچ کی جارہی تھی۔ میں وہاں ایک لمحہ کے لئے ٹھہرا۔ فورا ہی کسٹم کا ایک آدمی میری طرف متوجہ ہوا اور کہا : آپ جائیے، آپ جائیے ۔ گیٹ کے باہر آیا تو وہاں ایک صاحب گاڑی کے ساتھ مجھے لے جانے کے لئے موجود تھے۔ میں نے سوچا تو یہ پورا معاملہ میرے ذہن میں قیامت کے واقعہ کی صورت میں ڈھل گیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میں دنیا سے نکل کر قیامت کے میدان میں داخل ہوا ہوں۔ احتساب کے فرشتوں کو دیکھ کر رک جاتا ہوں۔ اچانک احکم الحاکمین کی طرف سے آواز آتی ہے کہ تم حیاؤ، تم جاؤ ۔ آگے بڑھتا ہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader