ایک سفر
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہن کی کیسی عجیب خصوصیت ہے کہ ۵۰ سال پہلے کا واقعہ ایک سیکنڈ میں اس کو یاد آجائے۔ حالانکہ مجھے یاد نہیں آتا کہ زمانہ طالب علمی کے بعد دو بارہ کبھی اس کا ذکر آیا ہو۔ پھر ڈاک کا یہ نظام انسان کے لئے کتنی بڑی سہولت ہے۔ اگر موجودہ وسائل نہ ہوں تو مذکورہ مضمون کو حاصل کرنے کے لئے مجھے سولہ سو کلو میٹر کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس میں غالباً دو ماہ لگ جاتے۔ پھر فوٹو کاپی کی مشینیں کتنی بڑی نعمت ہیں جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی چیز کا ویسا کا ویسا ہی عکس بلا تاخیر حاصل کر لیا جائے۔ یہ باتیں بظاہر بالکل معمولی ہیں، مگر معمولی چیز کو غیر معمولی چیز کے روپ میں دیکھنے ہی کا نام شکر ہے۔ اگر آدمی جذبہ شکر کے اپنے کے لئے انوکھے معجزہ کا انتظار کرے تو وہ کبھی بھی خدا کا سچا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسے اسباب شکر کسی کے لئے ظاہر ہونے والے ہی نہیں۔ علامہ موسیٰ جاراللہ ۱۹۳۸ کے وسط میں روس سے پناہ گزیں کے طور پر ہندوستان آئے تھے۔ مولانامین احسن اصلاحی کا ان کے بارہ میں مضمون الاصلاح کے شمارہ جون ۱۹۳۸ میں چھپا تھا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ علامہ موسیٰ جاراللہ عربی، فارسی، ترکی، روسی اور فرنچ زبانیں بخوبی جانتے ہیں۔ علومِ مشرقیہ کی مختلف شاخوں میں اچھی دستگاہ رکھتے ہیں۔ عالمِ اسلام کی اس زمانہ کی تمام سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کو قریب سے جانتے ہیں۔ وہ دو دن مدرسۃ الاصلاح سرائی میر، اعظم گڑھ میں مقیم رہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے: "علامہ موسیٰ جاراللہ نے مجھ سے سوال کیا کہ ہندوستان میں علومِ عربیہ کی تعلیم جس نہج پر ہو رہی ہے، تمہارے خیال میں اس کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عربی تعلیم ، مدارسِ عربیہ اور ساتھ ہی مذہب کی تباہی۔ مجھے خیال تھا کہ علامہ اس کی تردید کریں گے لیکن انھوں نے اس کی حرف حرف تائید کی۔ میں نے اپنی تحریری زندگی شروع کی تو میں کمیونزم کا مخالف بن چکا تھا۔ کانگریس کا ڈائمنڈ جوبلی سشن جنوری ۱۹۵۵ میں اوڈی (مدراس) میں ہوا تھا۔ اس موقع پر جواہر لال نہرو کی تحریک پر کانگریس نے یہ تجویز منظور کی تھی کہ ہمارا مقصد ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج بنانا ہے۔ اسی زمانہ میں میں نے اس کے بارہ (socialistic pattern of society)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader