ایک سفر
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
ملازمت کے بعد اب وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ۱۹۳۶ء میں میں ایک مدرسہ میں کتاب النحو اور کتاب الصرف کے اسباق پڑھ رہا تھا۔ اس وقت بظاہر نا قابل تصور تھا کہ میں کبھی روس کا سفر کر سکوں گا۔ مگر عجیب اتفاقی کہ اس واقعہ کے تقریباً ۵۵ سال بعد یہ قرعہ میرے نام آیا۔ جولائی ۱۹۹۰ء میں میں نے اس ملک کا سفر کیا جس کا پورا نام یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس (USSR) ہے۔ ۱۱ جون ۱۹۹۰ء کو نئی دہلی کے روسی سفارت خانہ سے ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھ کو دس روزہ پروگرام کے تحت سوویت روس بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ میں وہاں اسلام اور مسلمانوں کے حالات کو براہ راست دیکھوں، نیز یہ کہ ۲۸ جولائی کے لئے انھوں نے میری سیٹ ریزرو کرا دی ہے۔ اس سے پہلے بھی تاریخ کے تعین کے بغیر وہ اس پروگرام کی بابت مجھ کو اطلاع دے چکے تھے۔ جولائی کے مہینہ میں میری بعض مصروفیات تھیں۔ مگر میں نے ان مصروفیات میں تبدیلی کر کے ان کی پیش کش کو قبول کر لیا۔ کسی روسی آدمی کو پہلی بار میں نے پچاس سال قبل دیکھا تھا۔ اس وقت میں ایک عربی مدرسہ (الاصلاح، اعظم گڑھ) میں پڑھ رہا تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ صدر مدرس مولا نا امین احسن اصلاحی اپنے کمرہ کی طرف چلے تو ان کے ساتھ نئے حلیہ کا ایک آدمی تھا۔ صاف رنگ، بھاری جسم، سر پر غیر ہندستانی وضع کی ٹوپی۔ میری ان سے ملاقات تو نہ ہو سکی۔ البتہ مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انھیں کئی بار مدرسہ کے احاطے میں چلتے پھرتے دیکھا۔ اتنا یا دہ ہے کہ مولانا اصلاحی سے ان کی گفتگو عربی زبان میں ہوتی تھی۔ اس وقت مدرسہ کی آبادی میں وہ سب سے زیادہ پر شکوہ شخصیت والے نظر آئے۔ یہ علامہ موسیٰ جار اللہ روسی تھے۔ مجھے یاد تھا کہ اسی زمانہ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کی بابت اپنے ماہنامہ الاصلاح میں "شذرات" کے تحت کچھ لکھا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس مضمون کو دیکھوں۔ میں نے مولانا عبد الرحمن ناصر اصلاحی کو خط لکھا کہ الاصلاح کے مذکورہ مضمون کی فوٹو کاپی روانہ کر دیں۔ خط لکھنے کے چند دن بعد پانچ صفحہ کے اس مضمون کی فوٹو کاپی مجھے بذریعہ ڈاک دہلی میں مل گئی۔ واضح ہو کہ دہلی اور سرائیمیر (اعظم گڑھ) کے درمیان ۸۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر اس میں شکر کا عظیم الشان سرمایہ موجود ہے۔ یہ انسانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader