ایک سفر
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اعتبار سے ختم ہو سکے۔ غلامی کے بارہ میں اسلام نے جو احکام وضع کئے ہیں، وہ دو مقصد کے تحت تھے۔ مزید غلام بنانے کو روکنا، اور موجودہ غلاموں کو ختم کرنا۔ النوع الذی شُرعت لہ الاحکام کلھا تدور حول مبدأين مھمین ھما: تضييق المدخل وتوسيع المخرج) غلامی کے مسئلہ کی یہ تشریح نہایت صحیح اور عین شریعت کے مطابق ہے۔ تضييق المدخل اور توسيع المخرج کا یہی اصول اسلام نے دوسری برائیوں کے استیصال کے لئے بھی اختیار کیا ہے۔ کانفرنس کی تقریریں اور مقالے زیادہ تر اصل موضوع سے غیر متعلق تھے۔ اس لئے ان کی کوئی تفصیل یہاں درج نہیں کی جارہی ہے۔ ایک صاحب نے ان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: صرف آپ کا مقالہ مقررہ موضوع کے پوری طرح مطابق تھا۔ یہی اکثر کانفرنسوں کا حال ہوتا ہے۔ ۲۸ ستمبر کی نشست میں فلپائن کی موروبریشن فرنٹ کے نوجوان چیئر مین مسٹر نوری مسواری (NUR MISVARI) نے تقریر کی۔ ان کی انگریزی یہ تقریر انتہائی جوشیلے انداز میں تھی۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن کی مسلم آبادی کے علاقے میں آزادی کی جو لڑائی ہو رہی ہے ، اس میں اب تک کم از کم ۱۳۵ ہزار مسلمان اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلپائن کے سابق صدر مارکوس کے ساتھ ہماری میٹنگ ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو میں ہر چیز دینے کے لئے تیار ہوں۔ مگر میں آپ کو آزادی دینے کے لئے تیار نہیں : I am ready to give you anything except independence. مگر مسلم لیڈروں نے جواب دیا کہ ہماری لڑائی لڑائی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ ہم کو صرف آزادی چاہئے، اس کے سوا کوئی اور چیز ہم کو منظور نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی جد و جہد ہر مقام پر اسی صورت حال کا شکار ہے۔ مسلمان ہر جگہ بے فائدہ قومی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا نام انھوں نے غلط طور پر جہاد فی سبیل اللہ رکھ لیا ہے۔ وہ دوسروں سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کو دوسرے لوگ انھیں دینے کے لئے تیار نہیں۔ اور دوسرے لوگ جو کچھ انھیں دے رہے ہیں وہ مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں۔ اس قسم کی جنگ سراسر بے فائدہ ہے۔ اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں، اسلام سے اس کا تعلق ہونا تو در کنار ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader