Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں زندگی کی صورت صرف ایک ہے۔ ممکن (Possible) پر راضی ہو کر اس کو وقفۂ عمل کے طور پر استعمال کرنا نہ کہ مستقبل میں ناممکن (Impossible) تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ ممکن پر راضی ہونے سے ناممکن ملتا ہے۔ جو شخص ممکن پر راضی نہ ہو اس کا سفر ہی شروع نہ ہوگا۔ پھر وہ کسی منزل تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ ۲۴ ستمبر کی شام کو کانفرنس کے تمام شرکا، خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعہ بن غازی لے جائے گئے۔ وہاں انھوں نے رات کا کھانا کھایا اور صدر قذافی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ تاہم میں طبیعت کی خرابی کی بنا پر بن غازی نہ جا سکا اور اس پروگرام میں شرکت نہ کر سکا۔ اس اجتماعی ملاقات کا اہتمام معرفت ذاتی کے روایتی خیمہ میں کیا گیا تھا۔ اس خیمہ کو اور وہاں کے آداب کو اس سے پہلے میں دیکھ چکا ہوں۔ عربی کی ایک مثل ہے : خالف تعارف (رواج کے خلاف کام کرو، تم مشہور ہو جاؤ گے) معمر قذافی اس اصول کی دلچسپ مثال ہیں۔ وہ اپنے کو ’’ فرزند صحرا‘‘ کہتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اس مثل کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں بلغراد (Belgrade) میں ناوا بستہ ممالک (NAM) کی نویں کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر معرفت ذاتی اس طرح پہنچے کہ وہاں ان کے لئے چار اونٹ، دو عربی گھوڑے اور اسی کے ساتھ ان کا مخصوص عربی خیمہ بھی لے جایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیزوں کے ذریعہ انھیں بلغراد میں قیام کے دوران سادگی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ معرفت ذاتی ہر روز صبح کو اونٹ کا دودھ ایک گلاس پیتے ہیں۔ اس کو وہ حیات بخش اور اکسیر سمجھتے ہیں۔ ان کی قیام گاہ باب العزیزمی کے پاس، ہر وقت کچھ اونٹ چرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ سری لنکا کے ڈاکٹر محمد شکری (۴۸ سال)، سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسلم ڈویلپمنٹ بنک جدہ کے تعاون سے کولمبو میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جس کا نام الجامعۃ النظیمیہ الاسلامیہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے اردو اخبارات میں میں نے اس قسم کے مضامین پڑھے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انھوں نے اس سے مکمل انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا میں اس قسم کی کوئی منظم کارروائی کا قطعا کوئی وجود نہیں : There is no organised oppression against Muslims in Sri Lanka.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page