ایک سفر
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے اندازہ ہوا کہ دہلی اور ماسکو کے درمیان کافی مسافر ہوتے ہیں۔ تجارت اور تعلیم اور حکومتی ضروریات کے تحت لوگ سفر کرتے ہیں۔ حالاں کہ ہفتہ میں تین فلائٹ ایئر انڈیا کی ہے۔ اور تین فلائٹ ایئرروفلاٹ کی۔ یہ غالباً جواہر لال نہرو کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مخصوص مقاصد کے تحت امریکہ سے دوری اختیار کی اور روس سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ مگر نئے حالات نے ثابت کیا ہے کہ خود سوویت یونین اپنی ترقی کے لئے امریکہ کا ضرورت مند ہے۔ چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ ۲۰ بلین ڈالر سے اس کی مدد کرے۔ ۱۹۷۴ء میں ایک طرف جاپان نے اپنی نئی زندگی شروع کی اور دوسری طرف، ہندوستان نے۔ جاپان امریکہ کا تعاون لے کر بڑھا۔ آج وہ تمام ملکوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ ہندوستان نے اشتراکی روس کے تعاون سے آگے بڑھنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں پہنچا۔ آج دنیا بھر کے لوگ جاپان کی گھڑی پہننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر روسی صنعت کا حال عجیب ہے۔ دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ مسٹر ارن شرما نے مجھ سے فرمائش کی تھی کہ میں ان کے لئے روس کی بنی ہوئی پاکٹ واچ لے آؤں۔ کیوں کہ وہ ہاتھ کی گھڑی استعمال نہیں کرتے۔ وہ جیبی گھڑی کو پسند کرتے ہیں۔ ماسکو میں میں نے ایک واقف کار سے اس کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ روسی گھڑی اطمینان بخش نہیں ہوتی۔ اس کی پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷ء) کے بعد ہندوستان کے ترقی نہ کرنے کا کم از کم ایک بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد اس کی قیادت نہرو کے ہاتھ میں آئی۔ نہرو پہلے سے اشتراکی ذہن کے آدمی تھے۔ بعض سیاسی اسباب کے تحت وہ روس سے قریب ہونے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لئے، اپنے الفاظ میں، "سوشلسٹ پیٹرن" کو اختیار کیا۔ (مثلاً پانچ سالہ منصوبے، پبلک سیکٹر نیشنلائزیشن ، حکومتی کنٹرول، وغیرہ) اگر انھوں نے اس کے بجائے امریکی پیٹرن کو اختیار کیا ہوتا، نیز پڑوسی ملک سے ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیتے تو مجھے یقین ہے کہ ہندوستان آج ایشیا کا سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ سوشلزنم اور جنگی بجٹ کے دو پاؤں میں ہندوستان پس کر رہ گیا، اور دونوں کی ذمہ داری جواہر لال نہرو پر آتی ہے۔ خرو شچیوف کے زمانہ میں ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا۔ وہ ایک مرتبہ ایک روسی کار خانہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader