Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو مخترعینِ اسلام کا لقب عطا کیا جائے۔ میری لائبریری میں کمیونزم سے متعلق جو کتابیں ہیں ، ان میں سے ایک ساڑھے سات سو صفحہ کی وہ کتاب ہے جو مارکس ، اینجلز اور لینن کی اہم ترین تحریروں (Most important writings) پر مشتمل ہے ، اس کی ابتدا میں ناشر کی طرف سے جو نوٹ ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریریں ان قوانین سے بحث کرتی ہیں جو سماج کی ترقی میں حاکمانہ اثر رکھتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ سماجی ترقی میں انقلاب کا کردار کیا ہے : They deal with the laws governing the development of society, tell the role of revolutions in social development. یہ کتاب ۱۹۷۲ء کی چھپی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ حال تھا کہ ان کمیونسٹ مفکرین کی تحریروں کو آسمانی صحیفہ کی طرح اٹل اور محکم بتا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ مگر اس کی اشاعت کے ۲۰ سال بعد جب میں سوویت روس کی دنیا میں داخل ہوا تو وہاں شاید کوئی ایک شخص بھی نہ تھا جو ماضی کی ان تحریروں کو پڑھنا تو درکنار ان کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہو ۔ اس کتاب میں لینن کا مضمون ہے۔ اس میں مذہب کو بے حقیقت بتاتے ہوئے لینن نے کہا تھا کہ مذہب عوام کے لئے افیون ہے : Religion is opium for the people (p. 411). آج خود اشتراکی روس کا یہ حال ہے کہ وہاں کے درود دیوار تک پکار رہے ہیں کہ مذہب ایک فطری صداقت ہے ، اور خود مارکسزم ایک افیون ہے جس میں روسی عوام کو ۷۰ سال تک مبتلا رکھا گیا ۔ " ہیرو ورشپ " کے مزاج کے تحت اگر چہ آج بھی لینن کا شخصی احترام روس میں باقی ہے ، مگر اس کی تحریروں کو مقدس سمجھ کر اس کی تلاوت کرنے والا اب شاید ملک میں کوئی بھی نہیں ۔ ماسکو میں میری طبیعت خراب ہو گئی ۔ میں نے چاہا کہ میں مزید سفر کا سلسلہ ختم کر کے ماسکو ہی سے دہلی واپس چلا جاؤں ۔ مگر معلوم ہوا کہ میں فوراً یہاں سے نہیں جا سکتا ، کیوں کہ اگلی دو فلائٹ (ایئر انڈیا ، ایروفلاٹ) مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں ۔ یہی حال ۲۸ جولائی کو یہاں آتے ہوئے ایئر و فلاٹ کا تھا ۔ بڑے جہاز کی تمام سیٹیں بھری ہوئی تھیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page