ایک سفر
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر گولب ییف نے کہا کہ اب میں آپ کو اپنے گھر لے چلتا ہوں تاکہ آپ دیکھیں کہ ایک روسی کا گھر کیسا ہوتا ہے اور وہ اپنے گھر کے اندر کس طرح رہتا ہے۔ اس کے بعد میں ان کے فلیٹ پر گیا۔ یہ کافی بڑا اور سجا ہوا فلیٹ تھا۔ انھوں نے اپنے باورچی خانہ میں خود بنا کر چائے پلائی کیوں کہ اس وقت وہ گھر میں اکیلے تھے۔ چائے خوش رنگ تھی۔ میں نے اس میں دودھ نہیں ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ آپ چائے میں دودھ نہیں ڈال رہے ہیں تو کم از کم ایک چمچہ ہمارا دودھ چکھئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہمارے یہاں کا دودھ کیسا ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر کاغذی پیکنگ میں دودھ رکھا ہوا تھا۔ اس میں سے انھوں نے ایک چمچہ دودھ نکال کر مجھ کو دیا۔ میں نے کھایا تو دودھ بالکل خالص اور لذیذ معلوم ہوا۔ یہی حال مکھن کا تھا۔ میں نے سوچا کہ ہم ہندوستان میں کسی غیر ملکی سے یہی بات نہیں کہہ سکتے۔ ایک شخص جو خود گائے اور بھینس پالے ہوۓ نہ ہو تو کہہ سکتا ہے۔ مگر اس کے کہنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں بازار سے یا ڈیر ی سے ایک عام شخص کو کیسا دودھ اور کیا مکھن ملتا ہے۔ ہندوستان میں ہم نے سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کو جمع کیا۔ مگر یہاں دونوں کی برائیاں تو جمع ہوئیں مگر دونوں کی خوبیاں جمع نہ ہو سکیں۔ ماسکو سے روسی زبان میں ایک غیر سرکاری ویکلی اخبار نکلتا ہے۔ آرگونتے اسی فاکتے (Arguments and Facts) یہ صرف سیاسی اخبار نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے علمی اور سماجی موضوعات کو کور کرتا ہے۔ اس کی موجودہ اشاعت ۳۳ ملین سے زیادہ ہے۔ وہ سارے ملک میں پڑھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر او دیف (Gennady P. Avdeyev) نے یہ بات مجھے بتائی تو مجھے بڑا رشک آیا۔ ہندوستان میں ہم فخر کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری آبادی ۲۰ کروڑ ہے، مگر ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں جو بڑی تعداد میں چھپتا ہو اور سارے ملک میں تمام مسلمانوں تک پہنچے۔ مسلمان فخر کے میدان میں سب سے آگے ہیں اور عمل کے میدان میں سب سے پیچھے ۔ سوویت یونین میں بہت سی زبانیں ہیں۔ اس کا مسئلہ انھوں نے قابلِ تقلید انداز میں حل کیا ہے۔ سوویت یونین پندرہ ریپبلک پر مشتمل ہے۔ اس میں سے ایک روسی ریپبلک ہے۔ روسی ریپبلک کی فرسٹ زبان رو س زبان ہے جو مرکزی حکومت کی سرکا ری زبان ہے ۔ بقیہ چودہ ریپبلک میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader