ایک سفر
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی مقامی زبان کو فرسٹ زبان کی حیثیت حاصل ہے اور روسی زبان سیکنڈ لینگوئج کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔ ایک روسی تعلیم یافتہ شخص سے میں نے سوویت یونین میں مذہب کا حال پوچھا۔ اس نے کہا کہ اشتراکی انقلاب کے بعد مذہب یہاں بطور "عقیدہ" ختم ہو گیا تھا۔ مگر "رسم" کی سطح پر وہ ہمیشہ باقی رہا۔ مثلاً شادی کی رسم، موت کی رسم۔ ان چیزوں میں مذہب پہلے بھی سوویت سوسائٹی میں باقی نہا۔ اب گورباچیف کے زمانہ میں مذہب کو نئی آزادی ملی تو وہ عقیدہ اور عبادت کے اعتبار سے بھی زندہ ہورہا ہے۔ اس سے مذہبی رسوم کی نئی طاقت کا اندازہ ہوا۔ مذہبی رسوم مذہب کے معاملہ میں راکھ میں چنگاری کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ چنگاری راکھ کے ڈھیر میں دبی رہتی ہے۔ اور جب موقع ملتا ہے تو وہ بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہے۔ ماسکو میں قیام کے دوران میں نے ہزاروں سوویت باشندوں کو دیکھا۔ وہ مجھے خوش نظر آئے ۔ میرے ہوٹل میں روزانہ بہت بڑی تعداد میں مختلف علاقوں کے طلبہ بسوں سے آتے تھے۔ یہ لوگ تعلیمی ٹور کے تحت یہاں بھیجے جاتے ہیں۔ وہ لوگ اکثر ہنستے ہوئے نظر آتے تھے۔ ہوٹل کے ملازمین کا حال بھی یہی تھا۔ میں نے ایک انگریزی داں روسی سے پوچھا۔ اس نے بتایا یہ ایک نیا ظاہر ہ ہے ۔ یہ لوگ دراصل ” پر یسٹروئیکا “ کی وجہ سے اتنا خوش ہیں کیوں اب وہ اپنے کو آزاد محسوس کرتے ہیں۔ سوویت یونین میں دنیا کے ۱۱ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے لئے فرینڈ شپ سوسائٹیاں قائم ہیں ۔ مثلاً سوویت۔ سری لنکا فرینڈ شپ سوسائٹی۔ اس کے سکریٹری مسٹر گالکن (Alexey V. Galkin) ہیں۔ انھوں نے چار سال لنکا میں رہ کر سنہالی زبان سیکھی اور اس میں مہارت پیدا کی۔ اسی طرح سوویت انڈین فرینڈ شپ سوسائٹی۔ اس کے جنرل سکریٹری مسٹر گولب ییف (Isaac Golubyev) ہیں ۔ انھوں نے ایم اے تک اردو پڑھی۔ اس کے بعد انھوں نے تین سال پاکستان میں گزارے۔ وہ روانی کے ساتھ اردو بولتے ہیں۔ ان دونوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ اسی طرح دوسرے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے یہاں باضابطہ سو سائٹیلاں بنی ہوئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader