Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی وجہ یہ ہے کہ سوویت یونین ایک نظریاتی ریاست ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام ایک کامل اور عالمی نظریہ ہے۔ مگر کسی بھی مسلم ملک میں دوسرے ملکوں سے تعلقات کے لئے اس قسم کی سوسائٹیاں قائم نہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان میں بھی نہیں جو نصف صدی سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ ایک نظریاتی ملک اور نظریاتی ریاست ہے۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ مسلم دانشوروں کا نظریاتی دعویٰ محض اظہار فخر کے لئے ہے، وہ سنجیدہ عمل کے لئے نہیں۔ یکم اگست کو ماسکو کی مسجد دیکھی۔ یہاں کے موذن کا نام رئیس بلال (۲۳ سال) ہے اور امام کا نام راوی بن اسماعیل تھا۔ امام اور موذن دونوں کے سر پر گول ٹوپی تھی۔ مگر وہ کوٹ اور پتلون پہنے ہوئے تھے اور ٹائی لگائے ہوئے تھے۔ نماز کے وقت دونوں نے ایک لمبی عبا اپنے اوپر ڈال لی۔ ماسکو میں یہی ایک مسجد ہے۔ مسجد وسط ماسکو میں ہے۔ بہت اچھی بنی ہوئی ہے۔ چوڑی شاہراہ کے عین کنارہ ہے، اس کے ساتھ ملا ہوا پارک اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا ہے۔ مسجد چاروں طرف سے کھلی ہوئی تھی۔ مسجد کے اندر ٹیلیفون وغیرہ کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ وسیع دفتر میں میز اور کرسی کی نشست کا انتظام تھا۔ ماسکو میں ایک اور مسجد ہے جو اس وقت بند ہے۔ یہاں کے مسلمان حکومت سے اس کو کھولنے کی بات چیت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ بھی جلد کھل جائے گی۔ ماسکو میں مسلمانوں کی تعداد ۴۰۰۰۰۰ ۲۰۰ ہے۔ جمعہ کے دن ایک ہزار سے زیادہ آدمی اس مسجد میں جمع کی نماز ادا کرتے ہیں۔ موذن صاحب نے قرآن کا ایک نسخہ دکھایا۔ یہ تن کے بغیر روسی زبان میں قرآن کا کامل ترجمہ تھا۔ اس کے مترجم کا نام کراچکووسکی تھا۔ یہ ایک غیر مسلم روسی ہے۔ مگر وہ عربی زبان کا اچھا عالم تھا۔ اس نے قرآن کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس کو حکومت نے شائع کیا ہے۔ امام صاحب کو میں نے "الاسلام یتحدی" بطور ہدیہ پیش کیا۔ وہ اچھی عربی جانتے تھے۔ ان سے گفت گو عربی زبان میں ہوئی۔ وہ کتاب پا کر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کا ترجمہ روسی زبان اور تاتاری زبان میں کرائیں گے۔ سوویت یونین کے مسلمانوں کی بڑی تعداد تاتاری زبان بولتی ہے۔ یہاں کی مسجد میں میں نے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ آج یہاں کوئی خاص دن نہیں تھا۔ مگر لوگ مسلسل امام صاحب کے" دفتر" میں آ رہے تھے۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بھی بار بار بج رہی تھی۔ سب لوگ بہت" نشیط" دکھائی دے رہے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page