سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ فرق اللہ تعالی نے "تعارف" کے لئے رکھا ہے نہ کہ "امتیاز" کے لئے۔ یہ صورت حال در اصل انسان کے حالت امتحان میں ہونے کا ایک جزو ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ بیشتر انسان اس امتحان میں ناکام ہو گئے۔ سفید فام لوگوں نے رنگ کی بنا پر اپنے کو مخصوص نسل سمجھ لیا۔ اس کے جواب میں سیاہ فام نسل میں ردعمل پیدا ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ سیاہ بہتر ہے (Black is good) حتیٰ کہ انھوں نے کہا کہ خدا بھی سیاہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ ماسکو میں بہت بڑے بڑے پارک ہیں۔ مثلاً فرینڈ شپ پارک اتنا بڑا ہے کہ ایک منظم جنگل معلوم ہوتا ہے۔ اس کے اندر رابندر ناتھ ٹیگور کا اسٹیچو ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو میں گاندھی ، نہرو، اور اندر اكے اسٹیچو بھی ہیں۔ یہ ایک علامت ہے جس سے ہند اور روس کے درمیان گہرے تعلقات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کی صبح کو دوبارہ دہلی کے اسی ایئر پورٹ پر اترا گیا جہاں سے میں اس سفر پر روانہ ہوا تھا۔ انسان جہاں سے آیا ہے ، وہیں اس کو دوبارہ لوٹ کر جانا ہے۔ دنیا کے سفر میں ہر روز انسان کو اس حقیقت کا تجربہ کرایا جا رہا ہے۔ مگر مسافروں کی بھیڑ میں شاید کوئی بھی مسافر ایسا نہیں جو اس ابتدائی تجربہ میں اس کے انتہائی سبق کو پار رہا ہو۔ ہر آدمی واقعہ کے "نصف اول" کا ماہر بنا ہوا ہے ، واقعہ کے "نصف ثانی " کی خبر کسی کو نہیں۔ واپس آتے ہوئے اخبار میں ایک رپورٹ پڑھی۔ اس کا عنوان تھا ۔۔۔ ایک نیا سوویت روس ابھر رہا ہے : A new USSR is emerging اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خمسینات میں سوویت یونین نے ساری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا جب کہ اس نے اپنا اسپٹنک زمین کے مدار میں داخل کر دیا۔ اس طرح اس نے فوجی طاقت میں امریکہ کی برابری (strategic parity) حاصل کر لی۔ روایتی ہتھیاروں کے اوپر اس کو واضح برتری حاصل ہوگئی۔ مگر یہ حیثیت اس کو ایک بے حد مہنگی قیمت پر ملی ۔ فوجی برتری حاصل کرنے کی کوشش میں اس نے اپنی اقتصادیات کو برباد کر لیا۔ چنانچہ سوویت یونین اب ۔ ہ سالہ اشتراکی لبادہ کو اتار رہا ہے اور عام جمہوری انداز پر اپنی اقتصادیات کی نئی تنظیم کرنا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader