Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

میں دو جگہ ٹرکوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ معلوم ہو کہ آجکل ڈیزل کی سپلائی کم کر دی گئی ہے۔ نیزرات کو صرف چند پٹرول پمپ کھلے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ لمبی لائن ہے۔ ہر لائن میں سو کے قریب ٹرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ یہاں ٹرک ہے۔ انجن لگی ہوئی گاڑی ہے۔ ڈرائیور بھی اس کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ غرض ہر چیز موجود ہے، صرف ایک چیز ” ایندھن “ نہیں ہے، اس کی وجہ سے تمام گاڑیاں کھڑی ہو گئیں۔ ایک ” ٹرک “ ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پھر اتنی بڑی کائنات کس طرح ایندھن کے بغیر ۳۰ بلین سال سے چل رہی ہے۔ آدمی اگر اس پر سوچے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ دہلی سے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۹۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں پڑھنے کے لئے ایئر کمپنی کا میگزین ونڈس (Winds) موجود تھا۔ میں فلائٹ میگزین بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہوں ۔ مگر اس میں کوئی خاص چیز میرے پڑھنے کے لئے نہ تھی۔ تین سو صفحہ کا یہ رنگین چھپا ہوا میگزین زیادہ تر اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ چند معمولی قسم کے مضمون تھے۔ مثلاً ایک مضمون جاپان کی ریسلنگ پر تھا۔ ایک مضمون کا عنوان تھا : A day in the life of a salary man. جاپان مکل طور پر ایک تجارتی ملک ہے۔ دنیا کو دینے کے لئے اس کے پاس بہترین صنعتی چیزیں ہیں ۔ مگر علمی اور فکری ذوق رکھنے والوں کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔ اشتہارات کے لئے بڑی پرکشش زبان استعمال کی گئی تھی۔ مثلاً کار بنانے والی ایک کمپنی کا اشتہار تھا۔ کار کی ایک خوب صورت تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا ۔ تہذیب کے راستہ پر (on the road to civilization) ایک اشتہار میں ٹیلیویژن بنا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ تعارفی الفاظ لکھنے کے بعد یہ جملہ درج تھا کہ ٹک تک الوجی انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے : Technology for the benefit of mankind میں نے سوچا کہ ایک مصلح بھی وہی زبان بولتا ہے جو ایک تاجر بولتا ہے ۔ گر دونوں میں ایک فرق ہے۔ تاجر کا اصل مقصد تجارت ہے مگر وہ شخصی الفاظ نہ بول کر عمومی انسانی الفاظ بولتا ہے ۔ مگر مصلح جو لفظ بولتا ہے وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page