Technology for the benefit of mankind
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا اصل مقصد کبھی ہوتا ہے۔ گویا تاجر کی شخصیت میں ثنویت ہوتی ہے اور مصلح کی شخصیت میں وحدت۔ قدیم زمانہ میں دو قسم کی سواریاں رائج تھیں۔ ایک بری اور دوسری بحری۔ موجودہ زمانہ میں تیسری سواری وجود میں آئی ہے جو باعتبار نوعیت ابتدائی دونوں قسم کی سواریوں سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ہوائی سواری ہے۔ آج ہوائی سواری اس سے بھی زیادہ عام ہے جتنا قدیم زمانہ میں بری یا بحری سواری عام تھی۔ قدیم سواریوں میں تکمیل سفر کے بعد آدمی ’’ اندر سے باہر ‘‘ آتا تھا۔ جدید سواری میں وہ ’’ اوپر سے نیچے ‘‘ اترتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اولاد آدم ایک دوسرے کی دشمن ہوگی۔ یہ دشمنی (عداوت) ایک اخلاقی برائی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی دشمنی دیا کا پیٹشن، دنیا کی تمام ترقیوں کا واحد سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوئی۔ ابتدائی قسم کا ہوائی جہاز سب سے پہلے دو شخصوں نے، ادسمبر ۱۹۰۳ کو اڑایا تھا۔ مگر اس فن کی ترقی صرف اس وقت شروع ہوئی جب کہ فرانس اور جرمنی نے اس میں جنگی افادیت (war potential) کو محسوس کیا۔ ان دونوں ملکوں نے اس ’’ فلائنگ مشین ‘‘ کو ترقی دینا شروع کیا۔ تاکہ وہ بوقت جنگ اس کو استعمال کر سکیں۔ اگست ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو فرانس نے تقریباً دو ہزار ہوائی جہاز تیار کر لئے تھے اور جرمنی کے پاس ایک ہزار جنگی جہاز تھے۔ ہوائی جہاز کی صنعت نے ابتدائی جنگ کی برکت سے ترقی کی۔ ۱۹۱۹ میں جب پہلی باقاعدہ کمرشیل فلائٹ کا آغاز ہوا تو وہ بھی زیادہ تر استعماری عزائم کے تحت تھا ۔ جنگ پسندوں نے ابتدائی ہوائی جہاز کو ترقی دی، اس کے بعد امن پسندوں کو بھی اس کا ایک حصہ مل گیا۔ رابرٹ رنسی (Robert Runcie) ۱۹۲۱ میں پیدا ہوئے۔ وہ کیتھولک چرچ میں آرک بشپ آف کینٹر بری کے منصب پر ہیں۔ سفر کی بابت انھوں نے ایک دلچسپ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ قرون وسطی میں لوگ مذہب کے لئے سفر کرتے تھے۔ جب کہ آج وہ اس لئے سفر کرتے ہیں کہ سفر ان کا مذہب ہے : In the middle ages people were tourists because of their religion, whereas now they are tourists because tourism is their religion. ہماری پہلی منزل بین کاک تھی جو تھائی لینڈ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں ائیر پورٹ پر تقریباً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader