Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک گھنٹہ گزرا۔ ایئر پورٹ بہت صاف ستھرا اور منظم تھا۔ ٹائلٹ سے لے کر باہر کے مقامات تک کہیں کوئی تنکا یا دحبہ نظر نہیں آیا۔ طالب علمی کے زمانہ میں مجھے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا، مجھے ایک ٹکٹ ملا جس پر سیام لکھا ہوا تھا۔ یہ غالباً ۱۹۳۹ء کی بات ہے۔ اس وقت جو ملک "سیام" کہا جاتا تھا، اس کا موجودہ نام تھائی لینڈ ہے۔ پچاس برس پہلے یہ ٹکٹ صرف کاغذی ٹکڑے کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج وہ ٹکٹ اگر موجود ہو تو وہ نہایت قیمتی شمار ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچاس برس پہلے وہ صرف ڈاک کا ایک ٹکٹ تھا، مگر آج وہ تاریخ کی ایک دستاویز بن چکا ہے۔ تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک ہے۔ بینکاک کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہی شہر تھائی لینڈ کی تمام سیاسی اور تمدنی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ چنانچہ تھائی لینڈ کے تمام روز نامے بینکا ک سے نکلتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کے بیشتر ہفت روزہ اور ماہنامہ پرچے بھی۔ یہ پرچے تھائی، انگلش اور چینی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ جہاز بینکا ک سے ٹوکیو کے لئے روانہ ہوا تو راستہ میں پڑھنے کے لئے تھائی لینڈ کا انگریزی اخبار نیشن (The Nation) تھا۔ اس کے شمارہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۰ء کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ بر ماکی فوجی حکومت نے مخالف برمی طلبہ کی دارو گیر کی تو... ۲۰۰ طلبہ وہاں سے بھاگ کر تھائی لینڈ آگئے ان میں سے تقریباً ۸۰۰ طلبہ اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرین : (UNHCR) United Nations High Commissioner for Refugees کے تحت رجسٹرڈ ہیں، ان کو ادارہ کی طرف سے پناہ گزیں کے طور پر ماہانہ الاؤنس ملتا ہے۔ مگر تھائی لینڈ کی حکومت ان برمی طلبہ کے خلاف ہوگئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بار بار کی تنبیہہ کے باوجود یہ لوگ پر امن قیام پر راضی نہیں۔ وہ تھائی لینڈ کو بیس بنا کر برمی حکومت کے خلاف سرگرمیوں (anti-Rangoon political activity) میں مصروف ہیں۔ تھائی لینڈ میں مقیم برمی طلبہ دو جہازوں کو ہائی جیک کر چکے ہیں ایک اکتوبر ۱۹۹۰ء میں دوسرا نومبر ۱۹۹۰ء میں۔ انھوں نے کہا: They had made the move to publicize the Burmese people's struggle to democracy.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page