Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ مگر ہمارے صدرِ خارجہ بش خوش قسمت ہیں کہ وہ وزیرِ اعظم نہیں ۔ اگر وہ وزیرِ اعظم ہوتے تو یقیناً آج انہیں بھی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑتا : Mr Bush is lucky that he is not a Prime Minister - he would surely have been facing a non-confidence motion. اس سے ہندوستان اور امریکہ کے نظامِ حکومت کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں وزیرِ اعظم اور صدرِ حکومت کا عہدہ الگ الگ ہے۔ امریکہ میں یہ دونوں عہدے ایک شخص کی ذات میں جمع ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر دنیا کا سب سے زیادہ طاقتوران ہوتا ہے۔ ۱۹ نومبر کو دو پہر سے کچھ پہلے ٹوکیو پہنچا۔ یہاں جہاز بدلنا تھا، اس لئے چند گھنٹے ٹوکیو ایئر پورٹ پر گزرے۔ یہاں میں نے ایئر پورٹ کے ایک شخص سے "ٹوانلٹ" کے بارہ میں پوچھا۔ وہ غالباً انگریزی نہیں جانتا تھا ، وہ مجھے بتائے بغیر آگے چلا گیا۔ اتنے میں ایک صاحب میرے قریب آئے۔ انھوں نے اردو میں بولتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو ٹوائلٹ جانا ہے ، آئیے میں آپ کو لے چلتا ہوں۔ ہم ایک سیڑھی سے نیچے اترے تو وہاں نہایت صاف ستھرا ٹوائلٹ موجود تھا۔ میں نے فراغت کے بعد وضو کیا۔ باہر نکلا تو مذکورہ صاحب دوبارہ ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میرا نام محمد راشد ہے۔ میں دہلی میں رہتا ہوں اور ایکسپورٹ کا کام کرتا ہوں۔ کئی بار جاپان آ چکا ہوں۔ ٹوکیو میں ایک اردو داں کو پا کر خوشی ہوئی۔ میں نے کہا کہ مجھے نماز پڑھنا ہے۔ یہاں قبلہ کی سمت معلوم کرنا بے حد مشکل ہے۔ اندازہ کر کے ایک طرف پڑھ لیتا ہوں۔ انھوں نے فوراً اپنے بیگ سے ایک "قبلہ نما" اور ایک کتا بچہ نکالا۔ اور اندازہ کر کے بت یا کہ یہ قبلہ کا رخ ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے مطابق ایئر پورٹ پر نماز ادا کی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ اسلام کے لئے ایک مرکزی رخ مقرر کیا اور اسی کے ساتھ دنیا میں ایسے ذرائع پیدا کر دیئے کہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں اور کسی بھی مقام پر اس مرکزی رخ کو بالکل ٹھیک ٹھیک معلوم کیا جا سکے۔ اتنے اعلیٰ اجتماعی انتظام کے بعد بھی اگر مسلمان متحدہ نہ ہوں تو یہ سادہ طور پر محض ایک کو تاہی نہیں ہے بلکہ یہ خدا وند عالم کی ناقدری ہے۔ ٹوکیو ایئر پورٹ پر اور جاپانی جہاز میں بہت سے تجربات ہوئے جن کا ذکر میں سفر نامہ کے آخر میں کروں گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page