Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹوکیو سے لاس اینجلس کے لئے جاپان ایرلائنسز کی فلائٹ نمبر ۶۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ دس گھنٹہ کی مسلسل پرواز تھی جو پوری کی پوری بحر الکاہل کے اوپر طے ہوئی۔ کرۂ ارض کا تقریباً اے فی صد حصہ سمندروں سے گھرا ہوا ہے۔ ان میں سب سے بڑا سمندر بحر الکاہل (Pacific Ocean) ہے۔ متصل سمندروں کو چھوڑتے ہوئے صرف بحر الکاہل تمام سمندروں کا ۴۵ فیصد حصہ ہے۔ اس کی اوسط گہرائی ۱۲۹۲۵ فٹ ہے۔ ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک اس کا فاصلہ تقریباً گیارہ ہزار میل ہے۔ اس عظیم سمندر کے مقابلے میں تمام انسانوں کی مجموعی تعداد ایک چیونٹی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ مگر یہی انسان اس کے اوپر فاتحانہ پرواز کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا یہ کیسا عجیب احسان ہے۔ میں نے نیچے سمندر کی لہروں کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ لہریں کہہ رہی ہوں کہ اے انسان، ان احسانات کو سوچ کر تیرے اندر شکر خدا وندی کا سیلاب امڈ پڑنا چاہئے۔ مگر دنیا میں شايد ہی کوئی انسان ہو جس نے سمندر کی ان بیتاب لہروں میں اس کے ربانی پیغام کو سنا ہو۔ میں ہمیشہ صرف ایک ہینڈ بیگ کے ساتھ سفر کرتا ہوں۔ مگر اس بار میرے ساتھ کتابوں کے دو بڑے بنڈل تھے جس کی فرمائش امریکہ کی ایک تنظیم کی طرف سے کی گئی تھی۔ ۱۹ نومبر کی شام کو میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈہ پر اتراتو سب سے پہلے مجھے ان دونوں بنڈلوں کو حاصل کرنا تھا۔ ایک جگہ ہوائی اڈہ کی مخصوص گاڑیاں کھڑی تھیں جن پر سامان رکھ کر لوگ باہر لے جاتے ہیں۔ میں نے ایک گاڑی لینا چاہا تو وہ ایک راڈ سے چپکی ہوئی نظر آئی۔ معلوم ہوا کہ اس کا کرایہ ایک ڈالر ادا کرنا ہے۔ میں نے ایک مخصوص مشین کے اندر ایک ڈالر کا نوٹ ڈالا۔ اس کے بعد گاڑی اپنے آپ چھوٹ کر باہر آگئی۔ جس دنیا میں اس طرح کی الفورنتایج نکلتے ہوں وہاں موت کے بعد نکلنے والے نتائج پر یقین کرنا کتنا مشکل کام ہے ۔ کتابوں کا بنڈل لے کر ائیر پورٹ کے بیرونی گیٹ پر آیا تو وہاں جناب ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی موجود تھے۔ وہ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کے ڈائرکٹر ہیں اور بڑی عجیب خوبیوں کے آدمی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس قسم کے ادارہ کے لئے آئیڈیل ڈائرکٹر ہیں۔ ان کے ساتھ بذریعہ روڈ گارڈن گروو پہنچا جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔ ایک شخص جو لاس اینجلس کے شاندار ہوائی اڈہ پر اترے اور اس کے بعد پر رونق سڑکوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page