United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
نصف عراق کو گھیر لیا ہے بلکہ اس کے خلاف کارروائی کے لئے اپنے ہدف مقرر کر لئے ہیں۔ امریکہ کا بب ار ۵۲ وہ فوجی طیارہ ہے جو چالیس ٹن وزنی بم اٹھا سکتا ہے ۔ ایسے ۳۰ طیارے عراق کی تمام اہم تنصیبات کو چند گھنٹوں کے اندر تباہ کر سکتے ہیں ۔ یہ ویت نام نہیں جہاں غیر موافق جغرافیہ کی وجہ سے امریکہ کو ہدف نہیں ملتا تھا۔ یہ تو صحرا ہے جہاں ہدف خود طیارے کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ صدام حسین کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ان کے طیاروں اور میزائلوں کو فضا میں ابھرنے سے پہلے ہی تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لئے انھوں نے امریکہ کے آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ“ کا مقابلہ آپریشن ہیومن شیلڈ“ سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف صدام حسین کی انتہائی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم میگزین ۳۱ دسمبر ۱۹۹۰ کے بیان کے مطابق، یکم فروری ۱۹۹۱ تک امریکی فوجیں چار لاکھ تیس ہزار کی تعداد میں خلیج میں پہنچ چکی ہوں گی) امریکہ کو دریافت کرنے والے کی حیثیت سے کولمبس کو زیادہ شہرت حاصل ہے۔ مگر امریکہ کا نام کولمبس کے نام پر نہیں۔ اس کا نام اٹلی کے ایک تاجر آرمیگو (Amerigo Vespucci) کے نام پر ہے۔ آرمیگو کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ۱۴۹۷ میں امریکہ پہنچا تھا۔ جب کہ کولمبس اس سے کئی سال پہلے امریکہ کے ساحل پر اتر چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کولمبس کی دریافت کے باوجود امریکہ کو ایشیا ہی کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ آرمیگو کی مہم نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ ایک علیحدہ براعظم ہے : He established that the newly discovered lands West of the Atlantic were not a part of Asia but constituted a separate land mass (19/97). کولمبس کا نام مشہور رہے مگر امریکہ اس کے نام پر نہیں۔ آرمیگو کا نام مشہور نہیں مگر امریکہ کو اسی کی نسبت سے امریکہ کہا جاتا ہے۔ ایک کی ذات نے شہرت پائی اور دوسرے کے کام نے۔ امریکہ کا نقشہ آپ سامنے رکھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں ریاستوں کی حد بندی بالکل حسابی انداز میں سیدھی لکیروں کی صورت میں کی گئی ہے۔ نقشہ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ امریکہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کا نقشہ دیکھئے۔ اس میں ریاستی سرحدوں کی تقسیم ٹیڑھی میڑھی (zig zag) صورت میں نظر آئے گی ۔ ہندوستان کے کچھ اہل علم کی رائے ہے کہ اس معاملہ میں انڈیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader