Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

نقشہ کو جدید معیار پر لایا جائے۔ مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا ( ۲۳ جون ۱۹۹۰) میں مسٹر پر دیپ شنائے (Pradeep Shenoy) کا مضمون چھپا تھا۔ انھوں نے ہندوستان میں ریاستوں کا نقشہ امریکی انداز میں مقرر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کا مجوزہ نقشہ نیچے درج کیا جاتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کانگریس پارٹی نے عوام کو اپنے ساتھ لینے کے لئے جو وعدے کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ریاستوں کی تقسیم لسانی بنیاد پر کی جائے۔ یہ خالص مصلحت پرستانہ سیاست تھی۔ اس کی قیمت ہندوستان کو یہ دینی پڑی کہ آزادی کے بعد لسانی ریاستوں کا مطالبہ نہایت شدت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ نہرو اب اس کے موافق نہ تھے۔ مگر انھوں نے محسوس کیا کہ اگر ہم نے اس مطالبہ کو نہ مانا تو کانگریس کے لئے ریاستوں میں الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ دوبارہ مصلحت پرستانہ سیاست کے تحت ملک کی تقسیم زبان کی بنیاد پر کر دی گئی۔ امریکہ میں قیام کے دوران میں زیادہ تر جناب صغیر اسلم صاحب کے ساتھ رہا۔ ان کو میں نے رسالہ کا ایک مضمون یاد دلایا۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس طرح رہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے لئے کسی اعتبار سے مسئلہ نہ بنوں بلکہ کامل طور پر ” مسٹر نو پرابلم“ بن کر رہوں۔ مثلاً کھانے میں آپ میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page