Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

اتوار کی صبح کو میں اور صغیر اسلم صاحب فجر کی نماز پڑھ کر مسجد سے واپس آئے تو ان کے مکان کے گیٹ پر اخباروں کا ایک بڑا بنڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کیسا اخبار ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اخبار ہے۔ اتوار کو خاص طور پر وہ لوگ بہت زیادہ صفحات شامل کرتے ہیں۔ پھر انھوں نے لطیفہ سنایا کہ میرے بھائی وطن سے آئے۔ صبح کو اسی طرح انھوں نے اخبار کا بنڈل دیکھا تو کہنے لگے؛ غلطی سے وہ سارے محلہ کا اخبار یہیں چھوڑ گیا۔ ایک سفید فام امریکی نے بتایا کہ وہ ایک جاب کے سلسلے میں کچھ دنوں مصر میں رہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے کو اسلام کا طریقہ بہت اچھا لگا۔ اسلام کی کون سی بات آپ کو اچھی لگی۔ اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ وہاں میں نے دیکھا کہ مسلمان اپنے والدین کو عزت کے ساتھ ابی (میرے باپ) اور اتی (میری ماں) کہتے ہیں۔ ہم لوگ امریکہ میں اپنے والدین کو عام آدمیوں کی طرح صرف ان کے نام سے پکارتے ہیں۔ مجھ کو امریکی طریقہ کے مقابلہ میں اسلام کا طریقہ زیادہ پسند ہے۔ امریکہ میں آزادانہ تہذیب کے نتیجہ میں وہ رشتہ بالکل ٹوٹ گیا ہے جو فطری طور پر والدین کے ساتھ اولاد کا ہوتا ہے۔ انسان اب بھی اپنی سابقہ فطرت پر پیدا ہو رہا ہے، مگر عملی ماحول فطرت کی اس آواز کے مطابق نہیں۔ اس طرح فطرت اور معاشرتی ماحول کے درمیان عدم مطابقت پیدا ہوگئی ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک مصنوعی قید میں محسوس کرنے لگا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی دعوت کے زبردست مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر یہ مواقع اسلام کی دعوت کو روحانی انداز میں پیش کرنے کے لئے ہیں نہ کہ اسلام کی دعوت کو سیاسی انداز میں پیش کرنے کے لئے۔ ۲۱ جون ۱۹۹۰ کو شمالی ایران میں جو زلزلہ آیا تھا اس کا مرکز ویلم تھا، مگر اس کے ہلکے جھٹکے سوویت یونین کے اندر آذر بائیجان تک محسوس کئے گئے۔ اس زلزلہ میں تقریباً ۴۰ ہزار آدمی مرگئے۔ اور اس سے کئی گنا زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس طرح کے زلزلوں میں موت کا زیادہ بڑا سبب مکانوں کا گرنا ہوتا ہے۔ اگر مکانات نہ گریں تو بہت کم موتیں واقع ہوں۔ امریکہ میں بھی زلزلے آتے ہیں۔ مگر یہاں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا جتنا ایران اور روس میں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page