United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں مکانات بالکل دوسرے انداز سے بنائے جاتے ہیں۔ ارضیاتی سائنس میں غیر معمولی ترقیوں کے باوجود، زلزلے کی پیشین گوئی ابھی تک ایک بائیوس کن شعبۂ (Frustrating Science) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے اس کا امکان نہیں کہ زلزلے کی آمد کی پیشگی اطلاع دے دی جائے اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئیں۔ البتہ ایک چیز بڑی حد تک ممکن ہے، اور وہ ہے مکانات کو اس طرح بنانا کہ وہ زلزلے کے جھٹکے کو سہ لیں اور گرنے سے بچ جائیں۔ اس مقصد کے لئے موجودہ زمانہ میں ارتھ کوئیک انجینئرنگ وجود میں آئی ہے۔ اس کے مطابق اب ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جن کا ڈھانچہ (Floating foundations) فلوٹنگ فاؤنڈیشن کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے آتے ہیں تو یہ مکانات زیادہ تر ہلتے ہیں، وہ گر نہیں پڑتے۔ امریکہ میں سان فرانسسکو بھی اسی طرح زلزلے کا علاقہ ہے جس طرح ایران کا شمالی حصہ زلزلے کا علاقہ ہے۔ ۱۹۸۹ میں سان فرانسسکو میں تقریباً اسی شدت کا زلزلہ آیا جیسا کہ ایران کا مذکورہ زلزلہ تھا، مگر سان فرانسسکو کے اس زلزلے میں صرف ۵۷۲ موتیں ہوئیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سان فرانسسکو کے مکانات جدید تکنیک کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ ایران کے زلزلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اخبار نے لکھا تھا کہ ایران ایک زلزلہ والے علاقہ میں واقع ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنے تیل کی دولت کا ایک حصہ خطرہ والے مقامات پر زلزلہ روک مکانات کی تعمیر پر لگائے جو فطرت کے غضب کا شکار ہوتے رہتے ہیں: Iran, sitting on a veritable seismic volcano. must divert part of its oil- rich economy to building quake-resistant structures at places which have been subjected to nature's fury. ایران کا نام نہاد اسلامی انقلاب امریکہ سے نفرت کی بنیاد پر آیا۔ ایران کی طاقت کا سب سے بڑا حصہ یہ ثابت کرنے پر صرف ہو رہا ہے کہ امریکہ شیطان اکبر ہے، ایسی حالت میں اگر وہ امریکہ سے کوئی مفید سبق نہ لے سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader