United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات انڈیا میں ہوتے ہیں تو وہاں کے مسلمان ان کے خلاف جلسے جلوس کے ہنگامے کھڑے کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کش مکش بڑھتی ہے جو عمومی فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کے مسلمان، ان واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں، اس لئے یہاں عمومی فساد کی نوبت نہیں آتی۔ اشالی ورما ایک ہندوستانی نوجوان ہیں۔ وہ پچھلے ایک سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں انھوں نے انگلش اسکول میں تعلیم پائی۔ انگریزی لٹریچر کا کثرت سے مطالعہ کیا۔ اب وہ کافی اچھی انگریزی بولتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی ان کی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ تم تو ابھی ایک سال سے امریکہ میں ہواور تم اتنی اچھی انگریزی بول رہے ہو: You've only been here a year and you speak English so well! انھوں نے کہا کہ عام امریکی بیرونی دنیا کے بارہ میں بہت کم جانتا ہے۔ مجھے یہ جان کر سخت دھکا لگا کہ اگرچہ ہم امریکہ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، مگر خود امریکی بقیہ دنیا کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے: It came as a shock to me that, though we knew everything about America, the Americans knew next to nothing about the rest of the world. امریکیوں کا یہی حال اسلام کے بارہ میں ہے۔ عام امریکی اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتا۔ ایک امریکی نے گفت گو کے دوران کہا کہ ہم نے اسلام کے بارہ میں پہلی بار اس وقت جانا جب ہم نے سنا کہ ایران میں اسلامک ریوولیوشن آ گیا ہے اور وہاں کی اسلامی گورنمنٹ نے امریکی سفارت خانہ میں کام کرنے والے امریکیوں کو یرغمال (hostage) بنایا ہے، اور جو لوگ ان کے مخالف ہیں ان کو پکڑو پکڑو کر انھیں گولی ماری جا رہی ہے۔ مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مغربی میڈیا مسلم دنیا کے صرف برے واقعات کو نمایاں کرتا ہے۔ مگر یہ شکایت بالکل بے معنی ہے کیوں کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ یہی ہو گا ۔ خود مسلمانوں کے اخبار اور رسالے اور کتابوں میں مغربی دنیا کے صرف برے واقعات کو بیان کیا جاتا ہے۔ پھر ایسی شکایت سے کیا فائدہ۔ اس مسئلہ کا حل شکایت نہیں۔ اس کا حل صرف دو میں سے ایک ہے۔ یا تو مسلمان ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader