United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
عالمی میڈیا پیدا کریں اور اس کو اتنی ترقی یافتہ بنائیں کہ دوسری قو میں اس کو دیکھنے اور پڑھنے پر مجبور ہو جائیں ۔ اور اگر مسلمان ایسا نہیں کر سکے تو دوسری ممکن صورت یہ ہے کہ وہ ان واقعات سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائیں۔ جن کو مغربی میڈیا " دہشت گردی" کا عنوان دے کر اپنے یہاں پیش کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور صورت اس بد نامی سے بچنے کی نہیں ہو سکتی۔ امریکہ میں حال ہی میں ایک کتاب جاپان کے بارہ میں چھپی ہے۔ اس کے مصنف ۵۰ سالہ امریکی معاشیات پیٹ کوٹ ہیں اور اس کا نام ہے اثر ورسوخ کے ایجنٹ : Pat Choate, Agents of Influence. اس کتاب پر دو صفحہ کا تبصرہ امریکی جریدہ ٹائم (۸ اکتوبر ۱۹۹۰) میں چھپا ہے۔ اس تبصرہ کا عنوان ہے ــــــــ کیا واشنگٹن جاپان کی جیب میں ہے : Is Washington in Japan's Pocket? یہ ایک معلوماتی کتاب ہے ۔ اس میں بہت سے اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں۔ اور یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ امریکہ میں جاپان کی تجارتی کامیابی کا خاص راز جاپان کی تجارتی لابی ہے۔ جاپان کی تجارتی کمپنیاں امریکہ کے بڑے بڑے سابق افسران کو بھاری قیمت دے کر خرید لیتی ہیں اور ان کے ذریعہ امریکہ میں اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ جاپان تقریباً ایک سو ملین ڈالر (100 million $) سالانہ خرچ کرتا ہے ۔ حتی کہ امریکہ کے سابق صدر رونا لڈ ریگن کو جاپان بلایا گیا تاکہ وہ وہاں لیکچر دیں۔ اس کے لئے ریگن کو ۲ ملین ڈالر ادا کئے گئے ۔ اس قسم کے اعداد و شمار بظاہر صحیح ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ ایک مبالغہ آمیز بات ہے کہ صرف اس چیز کو جاپان کی اقتصادی کامیابی کا سبب بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان کے اندر اگر ذاتی صلاحیت نہ ہوتی تو محض ”لابی“ کی تدبیر اختیار کر کے وہ کبھی کامیابی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی بیشتر تعداد وہ ہے جس کی دلچسپیوں کا مرکز صرف ” ڈالر“ ہے۔ تاہم ایک تعداد وہ ہے جو اسلام کے بارے میں لکھتی اور بولتی ہے۔ ان لوگوں سے آپ بات کریں تو وہ متفقہ طور پر کہیں گے کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح ہمارے بزرگ رہنما ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ برطانیہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader