Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے (جمعہ) آج کا انسان اس کا مکمل مصداق ہے۔ آج کے انسان کی دلچسپی کی چیز صرف دو ہے، مفاد یا تفریح۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنے خالق اور مالک کی یاد میں مشغول ہو، مگر اس اصل مشغولیت کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں۔ پروگرام کے مطابق ۲۵ نومبر کی شام کو میری تقریر ہوئی۔ میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ کی مسلم نسلوں کے لئے تہذیبی ارتداد (cultural conversion) کا مسئلہ درپیش ہے۔ ترکی اور ہندوستان اور روس میں بھی یہی مسئلہ پیدا ہوا، لیکن وہاں عملاً ایسا نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں یہ مسئلہ جارحانہ چیلنج کی صورت میں آیا۔ اور جب کسی کو جارحانہ انداز میں چیلنج کیا جائے تو اس کے اندر مدافعانہ جذبات جاگ اٹھتے ہیں جو اس کی حفاظت کی ضمانت بن جاتے ہیں۔ امریکہ میں یہ مسئلہ اس لئے شدید ہے کہ یہاں کا چیلنج جارحانہ چیلنج نہیں۔ جارحانہ چیلنج بظاہر ایک تکلیف کی چیز ہے۔ مگر وہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل وہی ہے جس کا مشورہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اسی قسم کی صورت حال میں بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا : اجعلوا بيوتكم قبلة واقيموا الصلوة۔ یعنی اپنے گھروں کو دینی مرکز بنا لو، جو کچھ ملکی سطح پر حاصل نہیں ہے، اس کو اپنے گھر کی سطح پر حاصل کرو۔ میں نے کہا کہ اس خدا وندمی تدبیر کا فائدہ آپ کو صرف اس وقت مل سکتا ہے جب کہ آپ اپنا زیادہ وقت اپنے گھر اور اپنے بچوں کو دیں۔ امریکہ کے مسلم والدین عام طور پر اپنے بچوں کو ضروری وقت نہیں دے پاتے، اس لئے ان کے بچے یہاں کے کلچر میں گم ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کو اپنی آوٹنگ میں کمی کرنا ہو گا۔ اور اگر آپ دو شفٹ میں کام کرتے ہوں تو ایک شفٹ میں کام کرنا ہو گا تا کہ آپ اپنی اگلی نسلوں کو بچا سکیں ۔ اس وقت امریکہ کی عام صورت حال یہ ہے کہ ماں باپ اپنا زیادہ وقت گھر کے باہر گزارتے ہیں۔ وہ کام میں مصروف ہوتے ہیں یا تفریح میں۔ بچوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔ اس سلسلہ میں جو اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی باپ اپنے بچوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page