Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے معانی کی طرف چلا جائے۔ آپ سوچیں کہ خدا نے کس طرح وہ کھانا اور پانی بنایا جو میری بھوک اور پیاس کو مٹائے اور میری زندگی کی طاقت بنے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک عظیم تخلیق کا معاملہ ہے۔ خدا نے کائناتی انتظام کے تحت نان فوڈ کو فوڈ میں کنورٹ کیا، اس نے نان واٹر کو واٹر میں کنورٹ کیا، اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو کھائیں اور پئیں اور وہ آپ کے جسم میں داخل ہوکر آپ کا گوشت اور خون بنے۔ اسی طرح خدا نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ اپنے نان اسلام کو اسلام میں کنورٹ کریں، اس کے بعد ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کے اندر ایک اسلامی شخصیت ایمرج کھرے۔ ان عظیم انعامات کا احساس جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو وہ مذکورہ کلمہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لاس اینجلس میں افرو امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے۔ اس کا نام مسجد السلام ہے۔ اس کی طرف سے لاس اینجلس میں ۲۳ - ۲۵ نومبر ۱۹۹۰ کو بڑے پیمانے پر ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس کانفرنس کی تھیم یہ تھی - مسلم خاندان کس طرح بنایا جائے : The making of a Muslim family اس کانفرنس کے شرکاء میں امریکہ کے علاوہ دوسرے ملکوں کے ممتاز افراد کے نام بھی شامل تھے ۔ مثلاً امام وارث دین محمد، پرنس محمد بن فیصل ، دکتور جمال بدروی، وغیرہ۔ میں بھی اس کا نفرنس میں مدعو تھا۔ اس سلسلہ میں دو دن ( ۲۴ - ۲۵ نومبر) لاس اینجلس میں قیام رہا۔ قیام کا انتظام اور کانفرنس کا اجلاس دونوں کا نظم یہاں کے مشہور ہوٹل اسٹوفرس میں کیا گیا تھا۔ (Stouffers Hotel) اپنے کمرہ نمبر ۴۷۳ میں ایک روز میں نے خبریں سننے کے لئے ٹی وی کھولا۔ ایک خبر صدر بش کی خلیج سے واپسی کی تھی۔ مسٹر بش اور مسنر بش ہوائی جہاز سے ہنستے ہوئے اترے تو ان کے ساتھ ایک کتا بھی اترا جو ان کے پیچھے چلنے لگا۔ مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان تجارت اور لہو میں مشغول رہتا ہے، اور خدا کی یاد کو چھوڑ دیتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page