Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

کا سامان لگا ہوا ہے۔ ایک سفید فام بچہ تقریباً تین سال کا، آیا اور ایک جھولے پر چڑھ گیا۔ یہ جھولا ایسا تھا جس کو ہلانے کے لئے کوئی دوسرا آدمی درکار تھا۔ بچے نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ کہا۔ ابتداؤ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے کئی بار کہا تو میری سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہا ہے۔ چچا، مجھے دھکا دو: Uncle, push me. میں اس کے قریب گیا اور اس کو جھولا جھلانے لگا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد اس نے میرا نام پوچھا۔ اس نے کچھ اور کہا جو لہجے کے فرق کی وجہ سے میری سمجھ میں نہ آسکا۔ پارک میں جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، میرے ہاتھ میں امریکہ کے ایک متفلی میگزین سن سٹ (Sunset) کا شمارہ دسمبر ۱۹۹۰ تھا۔ اس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا تھا ۔ مغربی طرز زندگی کا میگزین: The magazine of Western living ۱۹ صفحہ کے اس انگریزی میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ اس کا چار صفحہ (۵۴-۵۷) بگڑے ہوئے بچوں کے اسکول (School for trouble teens) کے بارہ میں تھا۔ ان صفحات میں تقریباً چار درجن ایسے اسکولوں کے اشتہارات درج تھے۔ اس وقت امریکی خاندانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت اور نگہداشت کے لئے کوئی وقت نہیں۔ ان کا بیشتر وقت یا تو دفتروں میں گزرتا ہے یا اگر چھٹی ہو تو آؤٹنگ میں۔ چنانچہ بچے خود رو پودے کی طرح اگ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی پوری نسل خراب ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ اسکول ان بچوں کی پروفیشنل رہنمائی (professional guidance) کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ایک اشتہار کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے : We Rescue Teenagers: The most effective option for parents who need help with teens who are out of control, irresponsible, depressed, during and alcohol dependent, failing school, irresponsible, depressed, drug and alcohol dependent, failing school, running with the wrong friends, unmotivated, undisciplined and who lack real self-esteem.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page