United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کے اشتہارات پڑھتے ہوئے مجھے مذکورہ سفید فام امریکی بچے کے الفاظ Uncle, push me یاد آئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا گیا بچہ کے ان الفاظ میں نئی امریکی نسل کی روح پکار رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ میں دلدل میں پھنس گیا ہوں ، مجھے دھکا دے کر یہاں سے نکالو۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے اس سنگین مسئلہ کا حل پروفیشنل اسکول نہیں ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ امریکہ کے معاشرہ کو دوبارہ یہاں لایا جائے کہ اس کا طرز فکر بدلے ۔ والدین دوبارہ بچوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ۔ بچوں کی تربیت کا حقیقی کام صرف گھر کے اندر ہو سکتا ہے۔ وہ پروفیشنل اسکولوں میں کبھی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں ارادہ ہے کہ ان شاء اللہ خاتون اسلام جلد ہی انگریزی میں شائع کی جائے گی ۔ ایک روز میں پارک میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک سفید فام امریکی بیچ پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے پاس جاکر میں نے کہا کہ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ اس نے خوش دلی کے ساتھ میرے لئے جگہ خالی کردی۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ ابتدائی رسمی باتوں کے بعد گفت گو شروع ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اسلام کے بارہ میں کچھ جانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میں اسلام کے بارہ میں بہت کم جانتا ہوں۔ شاید یہ کوئی مخالف امریکہ نظریہ ہے : I have little knowledge of Islam. Perhaps it is a form of anti-Americanism. میں نے کہا کہ اسلام اینٹی امریکی نظریہ نہیں ، اسلام تو پرو امریکی نظریہ ہے۔ میری زبان سے یہ جملہ سن کر وہ چونک پڑا۔ اس کے دریافت کرنے پر میں نے مزید بتایا کہ اسلام کی بنیاد کسی قوم کی دشمنی یا کسی حکومت کی مخالفت پر نہیں۔ اسلام تو یہ ہے کہ ہر آدمی کو اس کے خالق سے متعارف کرے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں اس خدائی طریقہ کو اختیار کرنے کی تلقین کرے جو اس کو ابدی جنت میں لے جانے والا ہے۔ اسلام آپ کا دشمن نہیں ، اسلام آپ کا دوست اور خیر خواہ ہے۔ اگر آپ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ اسلام اینٹی امریکن ازم کا نام نہیں ، اسلام پرو امریکن ازم کا نام ہے۔ کیونکہ وہ آپ کو جنت میں لے جانا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader