United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے ٹیلیفون پر حسب ذیل نمبروں کے بٹن دبائے : 011-91-11-611128 اس کے فورا بعد دہلی میں ہمارے دفتر میں گھنٹی بجنے لگی ۔ میں نے سوچا کہ جس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ کیلی فورنیا کا ایک انسان دہلی کے ایک انسان سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں رابطہ قائم کرلے ، اس دنیا میں کیا یہ ممکن نہیں کہ انسان اپنے خالق سے رابطہ قائم کرسککے ۔ دل نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ مگر اس کے لئے اسی طرح صحیح تدبیر اختیار کرنی ہوگی جو کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم کرنے کے لئے اختیار کی گئی ۔ اس ربط کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ ھم مذکورہ نمبروں کا اہتمام نہ کرتے بلکہ دوسرے غیر متعلق نمبروں پر اپنی انگلیاں مارنے لگتے ۔ ایسی حالت میں ہماری کوشش بے فائدہ ہو جاتی ۔ اس کے بجائے ہم نے یہ کیا کہ صحیح ترین نمبر معلوم کرکے عین اسی نمبر کے ذریعہ ربط قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کرتے ہی فورا ً ربط قائم ہو گیا۔ اسی طرح خدا سے ربط قائم کرنے کا بھی ایک ” صحیح نمبر “ ہے اور ایک ” غلط نمبر “ جو شخص خدا سے ربط قائم کرنے کی سنجیدہ خواہش رکھتا ہو ، اس کو چاہئے کہ پہلے اس کا ” صحیح نمبر “ معلوم کرے ۔ ایسا کرنے کے بعد خدا سے اس کا ربط قائم ہونا اتنا ہی ممکن ہو جائے گا جتنا کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم ہونا ۔ یہ صحیح نمبر اپنی ذات کو حذف کرنا ہے ۔ جناب صفی قریشی صاحب نے ایک مجلس میں بہت اچھی مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ آجکل مصنوعی سٹلائٹ خلا میں بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ سٹلائٹ او پر جاکر ۲۰۰ میل یا اس سے کم و بیش کی دوری پر زمین کے گرد گھومنے لگتے ہیں ۔ مگر ان کی عمر کی ایک مدت ہے ۔ ایک مدت گزرنے کے بعد وہ زمین کی کشش کے دائرہ میں آکر زمین کی طرف کھنچنے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ نیچے آتے آتے ایک روز زمین پر گر پڑتے ہیں ۔ اسی طرح انسان ایک مقرر مدت کے لئے اس دنیا میں آتا ہے ۔ اس کے بعد اس کا واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ دوبارہ خدا کی طرف چلا جاتا ہے ۔ ۶ دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد آخری بار میں یہاں کے پارک میں گیا۔ پارک کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ملی ہوئی سڑک سے ایک بہت بوڑھا امریکن جوڑا خاص طرح کی کھلی ہوئی چھوٹی گاڑی کو آہستہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader