Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

کلو میٹر کا راستہ ان کے ساتھ گذرا۔ انھوں نے ایک واقعہ کے بارہ میں بتاتے ہوئے کہا : قل الحق و لو علی نفسک (حق بات کہو، خواہ، وہ تمہارے اپنے خلاف کیوں نہ ہو) ایک اور واقعہ کے ذیل میں انھوں نے کہا : ان اللہ یمہل ولا یہمل ، اللہ مہلت دیتا ہے مگر اللہ کبھی چھوڑتا نہیں، روز نامہ آرنچ کاؤنٹی رجسٹر (۴ دسمبر ۱۹۹۰) میں صفحہ اول پر ایک با تصویر خبر ہے۔ تصویر میں ایک جہاز (9-DC) ٹوٹا ہوا پڑا ہے۔ اس کو شعلے گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ہوائی حادثہ کا قصہ ہے جو امریکہ کی ریاست مشی گان میں ڈیر ائٹ کے ہوائی اڈہ پر پیش آیا۔ آٹھ مسافر فوراً مرگئے۔ بقیہ ۱۸۱ مسافروں میں کچھ زخمی ہوئے، اور کچھ پریشانی کی حالت میں باہر آئے۔ اس واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا تھا کہ یہ واقعہ اس لئے پیش آیا کہ ایک جہاز (727) ائیر پورٹ کے کہرا آلود رن وے (foggy runway) پر چلتے ہوئے دوسری طرف سے آنے والے جہاز کے راستہ میں داخل ہو گیا۔ جو اڑنے والا تھا۔ اس کے بعد ایک جہاز کا پر دوسرے جہاز کے پر میں ٹکرا گیا۔ ایسا اس لئے ہوا کہ اس وقت ائیر پورٹ پر گہرا کہرا چھایا ہوا تھا : One Northwest Airlines jet strayed into the path of another that was streaming toward takeoff and the two collided in heavy fog on a runway at Detroit Metropolitan Airport. اس خبر کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ "کہرا" کا مسئلہ ہر سفر میں پیش آتا ہے ، خواہ وہ مادی سفر ہو یا کوئی ذہنی سفر۔ آدمی اگر صرف روشن راہوں میں چلنا جانتا ہو، وہ کہر کے راستوں میں چلنے کے آداب نہ جانتا ہو تو اس کا یہی انجام ہوگا کہ وہ مخالف سمت سے آنے والی کسی " سواری" سے ٹکرا جائے گا۔ ایسا آدمی اپنی آخری منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ ۶ دسمبر کو جب کہ کیلی فورنیا میں صبح سویرے کا وقت تھا اور دہلی میں شام کا، مجھے دہلی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ میں نے جناب صغیر اسلم صاحب سے کہا۔ انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page