United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
برآمد ہوئی ہے کہ بہت سے لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں : یہاں پر اسلامک انفارمیشن سروس کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ وہ ہر ہفتہ ایک ویڈیو ٹیپ تیار کر کے ٹیلیویژن کمپنی کو دیتا ہے اور اس کو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ مجھ سے انھوں نے ویڈیو پر ایک مفصل انٹرویو لیا۔ اس میں اسلام کے موجودہ مسائل اور امریکی مسلمان اور ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں سوالات تھے۔ میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نا اہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں ملک میں لینے والے گروہ (taker-group) بن گئے۔ ان کی حیثیت دینے والے گروہ (giver-group) کی نہیں۔ ان کے مسئلہ کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ انھیں دوبارہ دینے والے گروہ کے مقام پر لایا جائے ۔ مسٹر اسلم عبد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ محمد مسلم صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ یہاں وہ انگریزی میگزین (The Minaret) کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ " ہندوستانی مسلمانوں کے لیے صحیح ڈائرکشن یہ ہے کہ وہ کنفرنٹریشن کو اوائڈ کرتے ہوئے کام کریں۔" ۵ دسمبر کی شام کو اسلامک سوسائٹی آرینج کاؤنٹی کے ہال میں ایک اجتماع میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ یہ مسلم ، مسیحی اور یہودی سیمینار (Trialogue) تھا۔ پہلے ایک یہودی عالم نے تقریر کی اور اپنے مذہب، اس کی تعلیمات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد ایک عیسائی عالم کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے مذہب کے بارہ میں تفصیل سے بتایا۔ آخر میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائرکٹر اسلامک سوسائٹی آرینج کاؤنٹی) کھڑے ہوئے ، انھوں نے اسلام کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر صدیقی کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیت عطا کی ہے۔ انھوں نے اسلام کا تعارف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader