Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ آیا تو ان کی تقریر پچھلی دونوں تقریروں پر بھاری ہو گئی ۔ لوگوں نے نہایت پسند کیا۔ میرے قریب کی سیٹوں پر چند امریکی نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ Comparative religion ( تقابلی مذہب ) کے طلبہ تھے۔ وہ اگرچہ مسیحی تھے اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر سننے کے بعد ایک نوجوان بے اختیار کہہ اٹھا کہ میں مسیحی ہوں۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر نے مجھے اپنے عقیدہ کے بارہ میں شک میں ڈال دیا ہے اور میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ مجھے اسلام کے بارہ میں اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعہ غیرمعمولی قسم کے لائق آدمی ہیں : I am a Christian. But Dr. Siddiqi’s presentation make me think twice. I have to learn more about Islam. He was terrific real genius. ڈاکٹر صدیقی نے اپنی تقریر میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا تعارف کراتے ہوئے آخر میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر چہ تمام مذاہب خدا کی طرف سے آئے۔ مگر آج تمام مذاہب میں محفوظ مذہب (Preserved religion) صرف ایک ہے، اور وہ اسلام ہے۔ یہی اسلام کو پیش کرنے کا صحیح ترین طریقہ ہے۔ اسلامی دعوت میں ہمیں فروعی یا سیاسی باتوں کو چھوڑتے ہوئے صرف بنیادی تعلیمات کو پیش کرنا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی ترجیح بتانے کے لئے یہ نہیں کہنا ہے کہ اسلام افضل مذہب ہے۔ ہمیں ترجیح بتانے کے لئے صرف ایک بات کہنا ہے اور وہ یہ کہ اسلام ہی آج محفوظ مذہب ہے۔ دوسرے مذاہب تاریخی اعتبار سے محفوظ مذہب نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ڈاکٹر صدیقی جیسے افراد کی رہنمائی میں اس قسم کی سنجیدہ کانفرنسیں یورپ اور امریکہ میں کی جائیں تو ان کے ذریعہ زبردست دعوتی فائدہ حاصل ہوگا۔ پروگرام کے مطابق آخر میں اختتامی کلمات مجھے کہنا تھا۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعض وجوہ سے میں آخر وقت تک ٹھہر نہ سکا۔ میں خاتمہ سے پہلے چلا آیا۔ نیو یارک سے جناب کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے یہ خوشی کی بات بتائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page