Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

خوشی سے محرومی کی تلافی وہ شراب کے ذریعہ کرتا ہے۔ امریکیوں کی غلط عادتوں نے، ساری ترقی کے باوجود، انھیں اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔ محمد اسد صاحب کے انگریزی ترجمہ قرآن (The Message of the Qur’an) کا ذکر سنا تھا مگر اس کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ یہاں اس کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے سامنے جو نسخہ ہے، وہ نہایت عمدہ چھپا ہوا صرف ایک جلد میں ہے۔ اس کے ایک ہزار صفحات ہیں۔ وہ انگلینڈ میں چھپا ہے اور درج ذیل ادارہ نے اس کو شائع کیا ہے: Dar al-Andalus Limited, 3 Library Ramp, Gibraltar تشریحی نوٹوں میں محمد عبدہ (المنار) کے کافی حوالے ہیں اور اسی طرح الرازی کے بھی۔ تاہم بیشتر مقامات پر تشریح کا انداز روایتی ہے۔ مثال کے طور پر عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا کا ترجمہ مع تشریح یہ کی ہے: ...and thy sustainer may well raise thee to a glorious station (in the life to come). ترجمہ کے سلسلہ میں میرا ذوق یہ ہے کہ اس کو خالص لفظی ہوناچاہیئے ۔ تشریحی ترجمہ مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں۔ مگر اسد صاحب نے جگہ جگہ تشریحی ترجمے کئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان مع العسر يسرا کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: Verily, with every hardship comes ease. اس ترجمہ میں کوئی مزید تشریح درج نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں comes کا لفظ تشریحی اضافہ ہے. اس سے آیت کی اصل معنویت متاثر ہو جاتی ہے۔ صحیح لفظی ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے: Verily, with every difficulty there is ease. محمد اسد صاحب بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تفسیر میں وہ گہرائی نہیں جو ایک محقق کے یہاں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر یورپ اور امریکہ کے مستشرقین کا ایک اعتراض قرآن پر یہ ہے کہ اس میں تصنیعی یکسانیت نہیں۔ اس میں incoherent rambling پائی جاتی ہے۔ مثلاً کہیں اللہ کا لفظ ہوگا کہیں وہ ، کہیں ہم اور کہیں میں ، کہیں ہم پر اور کہیں مجھ پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page