United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ دنیا سے شرک اور الحاد کا خاتمہ کرتے۔ مگر افغانی لیڈروں نے افغانی قوم کو اس راہ پر کبھی نہیں لگایا۔ کانفرنس میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر عاقل خاں راجپوت تھے ۔ وہ امریکہ کے محکمہ میزائل (Missile Weapons Systems) میں ایک بڑے عہدہ پر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الور کے ایک گاؤں مونڈ اور میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں وہ پاکستان چلے گئے ۔ اس کے بعد امریکہ آکر سائنسی تعلیم حاصل کی اور ترقی کرتے ہوئے موجودہ عہدہ پر پہنچے۔ ۱۹۴۲ میں بے بسی کے عالم میں کوئی شخص ان کو الور سے بھاگتے ہوئے دیکھتا تو وہ ان کے معاملہ کو صرف ظالم اور مظلوم کا ایک معاملہ سمجھتا۔ مگر ۴۷ ۱۹ کا مظلوم نوجوان ۱۹۹۰ کا ہیرو انسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل حالات آدمی کے لئے زحمت کے بھیں میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہیں۔ مشکل حالات آدمی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اور کسی آدمی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے اندر کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھی ہوں ۔ صغیر اسلم صاحب کے یہاں ۲۲ نومبر کو ایک سفید فام امریکی نوجوان لینی (Lenney) بطور کار ریگر کام کرنے کے لئے آیا۔ وہ خوش پوش اور صحت مند تھا۔ کار پر بیٹھ کر آیا تھا۔ میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ یہاں کے مزدور اور کار ریگر بہت اچھی حالت میں ہیں۔ اگلے دن ۲۳ دسمبر کو امریکی عیسائیوں کا خصوصی تہوار تھینکس گیونگ (Thanksgiving) تھا۔ اس لئے اس نے ۲۴ نومبر کو چھٹی کر لی۔ دوپہر کو صغیر اسلم صاحب کے پاس اس کا ٹیلی فون آیا کہ میرے پاس پیسہ نہیں ہے ، اس لئے کل کی مزدوری مجھے پیشگی دے دو۔ اس کے بعد وہ اپنی گاڑی پر آیا اور ۱۰ ڈالر پیشگی لے کر چلا گیا۔ یہ چھوٹا سا واقعہ عام امریکیوں کے مزاج کو بہت بتاتا ہے۔ عام امریکی بے پناہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس پیسہ باقی نہیں رہتا۔ اکثر اوقات وہ مقروض رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ بظاہر خوش پوش اور خوش و خرم آدمی اندر سے غیر مطمئن ہوتا ہے۔ حقیقی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader