ایک سفر
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مبلغین کے رد عمل میں شروع ہوا ہے۔ اس لئے کسی بھی کلیہ میں پورے معنی میں صحیح دعوتی ماحول موجود نہیں۔ کانفرنس کی طرف سے ہوٹل کے ایک کمرہ میں رزرویشن آفس کھلا ہوا تھا۔ ۴ ستمبر کو میں وہاں گیا تاکہ واپسی کے رزرویشن کے لئے ان کو اپنا ٹکٹ دے دوں۔ انھوں نے کہا کہ واپسی کے لئے ہم آپ کا رزرویشن کویت کے راستہ سے کر رہے ہیں۔ چوں کہ کویت میں اگلی پرواز کے لئے اچھا کنکشن نہیں تھا، اس لئے میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بجائے آپ کراچی کے راستہ سے میرا رزرویشن کریں۔ انھوں نے دوبارہ کویت کے راستہ سے رزرویشن کرانے کی بات کی۔ اس پر میری زبان سے نکل گیا: ’’لا ابداً‘‘۔ اس کے بعد اچانک مجھے خیال آیا کہ دنیا کے سفر میں تو میں اپنی پسند کے خلاف، راستہ پر سفر کرنے کے لئے ’’لا ابداً‘‘ کہہ کر انکار کر رہا ہوں ۔ مگر آخرت کے سفر کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہوگا۔ وہاں کسی شخص کے لئے انکار کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ آخرت کا سفر، دنیا کے سفر سے کتنا زیادہ مختلف ہوگا۔ مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ ہوٹل کے ریسپشن میں ایک بہت بڑی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے ایک طرف معمر قذافی کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا۔ پس منظر میں ’’مصنوعی دریا‘‘ کا پانی موجیں مارتا ہوا بہتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا ـــ انسانی در باب بنانے والا عظیم انسان: The great man-river builder. لیبیا میں پانی سپلائی کا نیا تجربہ کیا گیا ہے۔ چشموں کے پانی کو ذخیرہ کرکے اس کو بہت بڑے پائپ میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ پائپ صحراؤں سے گزرتا ہوا سیکڑوں میل دور کے مقام پر پہنچتا ہے اور خشک زمینوں کی آب پاشی کرتا ہے۔ پہلی نظر میں دیکھیے تو یہ ’’مصنوعی دریا‘‘ ایک انسان (معمر قذافی) نے بنایا۔ مزید غور کیجیے تو یہ پڑد ڈال کا کارنامہ نظر آئے گا۔ اور زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ سراسر خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ کیوں کہ اسی نے پانی کے ذخائر پیدا کئے۔ پھر اسی نے وہ تمام امکانات پیدا کئے جن کو استعمال کرکے کوئی شخص اس قابل ہوتا ہے کہ وہ صحراؤں میں دریائیں اور نہریں جاری کرے۔ ہر واقعہ بالآخر خدا وند ذو الجلال کا کارنامہ ہے۔ مگر بے خبر انسان اس کو دوسری چیزوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader