Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

شاعر نے کہا تھا : ہر چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار طرابلس سے ایک ہفتہ وار عربی اخبار نکلتا ہے جس کا نام ہے الدعوة الاسلامیہ۔ اس کے شمارہ ۲۹ مارچ ۱۹۸۹ میں صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی : نصف ملیون کا نویسیکی فی ایطالیا یلدخلون الاسلام (اٹلی کے پانچ لاکھ کیتھولک مسیحی اسلام میں داخل ہو گئے ) یہ خبر ایک اطالوی ہفت روزہ میگزین ایسپریسو (Espresso) کے حوالہ سے دی گئی ہے۔ اطالوی میگزین کی یہ رپورٹ اٹلی کے مسلمانوں کے بارہ میں ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ، حال میں ان کی تعداد نصف ملین افراد تک پہنچ گئی ہے۔ اٹلی میں مسلمانوں کی تعداد اب وہاں کے یہود یوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس طرح اب اٹلی میں اسلام تعداد کے اعتبار سے مسیحیت کے بعد نمبر ۲ پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان نکاح کی صورت میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مسیحی (عورت یا مرد) اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیتے ہیں (فی حالات الزواج بين المسلمين والمسيحيين ، فان المسيحيين هم الذين يتخلون عن دينهم) اسلام کی فکری اور نظریاتی طاقت ناقابل تسخیر حد تک عظیم ہے۔ مگر اسلام کا یہی وہ امتیازی وصف ہے جس سے موجودہ زمانہ کے فریادی مسلم رہنما سب سے زیادہ بے خبر ہیں۔ ۴ ستمبر کی شام کو میری طبیعت خراب ہو گئی۔ کانفرنس کے منتظمین مجھ کو قریب کے ایک اسپتال میں لے گئے۔ یہ نسبتاً ایک چھوٹا اسپتال تھا۔ وہاں ایک مصری ڈاکٹر نے میرا بلڈ پر یشر وغیرہ دیکھا اور ایک انجکشن اور ایک دوا تجویز کی۔ پورا اسپتال تو میں نہ دیکھ سکا تا ہم اسپتال کے اندر چلتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ وہاں کوئی مریض نہیں۔ ڈائریکٹر اور کمپاؤنڈر وغیرہ تو مجھے نظر آئے۔ مگر وہاں مجھے کوئی مریض دکھائی نہ دیا۔ ہندوستان میں مریض ہیں مگر اسپتال نہیں۔ یہاں اسپتال ہیں مگر مریض نہیں۔ ۴ ستمبر کو دن کا کھانا کلیۃ الدعوة الاسلامیہ میں تھا۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں جدید بلڈنگز پر بنائی گئی ہے۔ آجکل ” کلیۃ الدعوة “ کے نام پر اکثر مسلم ملکوں میں تعلیمی ادارے قائم ہیں جن کا مقصد اسلام کے داعی تیار کرنا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نہایت مفید کام ہے۔ مگر موجودہ صورت دہ بیسائی مبشرین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page