Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جگہ قرآن کے ایک صفحہ کی تصویر ہے۔ یہ صفحہ قدیم طرز کے معمولی خط میں لکھا ہوا ہے۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے : اس طرح کی کئی غیر نمایندہ تصویریں دینے کے بعد آخر میں ایک اور تصویر ہے۔ اس میں ایک عرب اسکالر اپنا روایتی عربی لباس پہنے، ہوئے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے جدید طرز کی مغرب کی بنی ہوئی ایک خورد بین رکھی ہوئی ہے۔ عرب اس مغربی خورد بین پر جھکا ہوا کسی چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس کے نیچے لکھا ہوا ہے: اس طرح بچوں کی اس کتاب میں نہایت منظم طور پر اسلام کو حقیر بنا کر دکھایا گیا تھا۔ اور اس کے مقابلہ میں مغرب کی تصویر نہایت عظیم بنا کر پیش کی گئی تھی۔ کیلی فورنیا میں مقیم ایک ہندوستانی مسلمان کا خط مجھے دہلی میں ملا تھا۔ انھوں نے الر سالہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں کو بزدلی سکھا رہے ہیں۔ آپ کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اس سے مسلمان آنکھیں بند کر کے تعلیم اور تجارت جیسی چیزوں میں لگ جائیں۔ اس طرح تو مسلمان اپنی شناخت بھی کھو دیں گے۔ ان مسلمان صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے مذکورہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی باتوں پر ہندوستان میں مسلمان لڑیں تو اس کو آپ جہاد بتاتے ہیں اور خود اس قسم کی بے شمار باتوں کو برداشت کر کے امریکہ میں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ بتائیے کہ آپ کا یہ رویہ ، آپ کے معیار کے مطابق ، بزدلی ہے یا بہادری ۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page