Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

خصوصی اہتمام کے ساتھ دیوار پر لگی ہوئی ہے۔ اس پر لکھا ہوا تھا: ایڈورڈ ڈس ڈیمنگ (Edwards Deming) میں نے کہا کہ یہ تو ایک امریکی ہے ، آپ کی حریف قوم کا ایک فرد۔ پھر آپ نے اس کی تصویر اپنے یہاں کیوں لگا رکھی ہے۔ دفتر کے ذمہ دار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ تو ہمارے سب سے بڑے گرو ہیں: He is our super-guru. ایڈورڈ ڈس ڈیمنگ ایک ماہرِ شماریات (statistician) کا نام ہے۔ اس نے صنعت کی ترقی کے لئے کوالٹی کنٹرول کا نظریہ پیش کیا اور اس کے اصول وضع کئے ۔ جاپانیوں نے فوراً اس کو لے لیا اور اس کو اپنی ترقی کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا۔ اس معاملہ میں انھوں نے اپنی قوم کو اتنا باشعور بنایا کہ پوری قوم کے لئے کوالٹی کی حیثیت ایک طریقہ زندگی (way of life) کی ہو گئی ۔ حتیٰ کہ انھوں نے اپنی صنعتی پیداوار کو زیر و ڈیفیکٹ (zero defect) کے مرحلہ میں پہنچا دیا۔ جاپانیوں کو امریکہ سے سخت چوٹ پہنچی تھی ، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ امریکیوں کو دشمن بتا کر ان کے خلاف الفاظ کا طوفان جاری کر دیں۔ اس کے بجائے انھوں نے امریکیوں سے سیکھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے دشمن کے اندر سے بھی اپنے موافق باتیں نکال لیں۔ یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے، اور ایسے ہی لوگ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ جاپان میں قیام کے لئے میرے پاس دو ہفتہ کا ویزا تھا۔ مگر بعض اسباب کی بنا پر میں دو دن ہی یہاں ٹھہر سکا۔ ٹوکیو میں ایک اسلامک سنٹر ہے ۔ یہ ١٩٦٥ میں قائم ہوا۔ ١٩٨٢ میں اس کی مستقل عمارت بنائی گئی۔ اس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عبد الرحمن صدیقی کا ٹیلی فون امریکہ میں آیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامک سنٹر میں میرا پر وگرام رکھیں۔ اس سے پہلے دہلی میں ڈاکٹر اسکندر احمد چودھری (مقیم ٹوکیو) کا خط ملا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ آپ کی آمد کے موقع پر ہم چاہتے ہیں کہ جاپانی مسلمانوں کا ایک اجتماع ٹوکیو کے اسلامک سنٹر میں رکھیں۔ میرے مختصر قیام کی وجہ سے اس قسم کا کوئی پر وگرام تو نہیں بنا، البتہ اپنے مختصر قیام کو میں نے زیادہ سے زیادہ اس مقصد کے لئے استعمال کیا کہ میں جاپان کو سمجھوں۔ ایک بار بس میں میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page