سفرِ امریکہ ۶
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے افراد قوم کی شعوری تعمیر پر ۳۰ دن بھی صرف نہیں کئے۔ حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ تعمیر شعور بھی کوئی کرنے کا کام ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنا حق سمجھتے ہیں کہ وہ اور ان کی پوری قوم پوری زمین تو کیا پوری کائنات کی صدر نشین بن جائے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، دوسری عالمی جنگ تک جاپانی مصنوعات کو غیر معیاری (substandard) سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج معاملہ الٹا ہے۔ آج میدان جاپان کا مطلب ہوتا ہے سب سے اچھا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد سامان۔ چنانچہ آج تمام لوگوں کی زبان پر یہ سوال ہے کہ جاپانی کیسے ایسا کرتے ہیں اور اتنا عمدہ کرتے ہیں : How they do it and do it so well. دنیا کے مختلف ملکوں سے خاص اس مقصد کے لئے لوگ جاپان آتے ہیں تاکہ اس راز کا پتہ لگائیں۔ اس قسم کے ایک صاحب ، جو یورپ کے ایک ملک سے آئے تھے، ان سے ٹوکیو ائیر پورٹ پر میری ملاقات ہوئی۔ گفت گو شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ جس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے آپ جاپان آئے، میں خود بھی اسی سوال سے دوچار ہوں۔ اس لئے آپ مجھے اپنی دریافت سے آگاہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس کار راز میرے خیال میں یہ ہے کہ جاپانی لوگ بہت زیادہ معیار پسند (highly quality consious) ہوتے ہیں۔ ہر جاپانی کے اندر زبردست طور پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جو کام بھی کرے بہتر طور پر کرے۔ یہ خواہش اتنی گہری ہے کہ اس کی خاطر وہ ہر دوسری چیز حتیٰ کہ خاندانی زندگی کو چھوڑ دیتا ہے : Every Japanese possesses very strong desire to do well, whatever bit he does. This desire is so intense that he forfeits even family life in pursuit of perfecting it. جاپان کے افراد کا یہ مزاج جاپان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں بدقسمتی سے یہ مزاج نہیں ۔ یہی ہماری سب سے بڑی کمی ہے جس نے ہمیں عالمی سطح پر پیچھے کر رکھا ہے۔ یہاں مجھے ایک جاپانی آنس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک تصویر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader