سفرِ امریکہ ۶
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جو چیز معاون ہوئی وہ یہ کہ جاپانی ایسے لوگ ہیں جن کے اندر فطری طور پر یہ استعداد ہے کہ وہ ہر اس چیز کو قبول کر لیں جو عقل کے موافق ہو (لانهم قوم عندهم استعداد طبیعی لقبول کل ما يوافق العقل) صفحہ ۵۳ مسلم رہنما ہر جگہ صلیبیت اور صهیونیت اور عرب قومیت کو عالم اسلام کا سب سے بڑا خطرہ بتا رہے ہیں۔ مگر وہ تبلیغی اسلام کی تسخیری طاقت سے بالکل بے خبر ہیں۔" سب سے بڑا خطرہ" کا انکشاف کرنے والے بہت ہیں مگر " سب سے بڑا امرکان " کا اعلان کرنے والا کوئی نہیں ۔ سوویت روس کی مشرقی سرحد پر جزیروں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان جزیروں کو کور یل جزیرے (Kuril Island) کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرے پہلے جاپان کا حصہ تھے۔ یہ جزیرے ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ تر غیر آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں یالٹا کا نفرنس کے فیصلے کے مطابق، سوویت روس نے کچھ جزیروں پر قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ ۱۹۴۵ کا ہے۔ روس اور جاپان کے درمیان یہ ایک مستقل نزاع کا باعث تھا۔ جاپان کی بار بار کوشش کے باوجود روس ان جزیروں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ مگر جاپان کی غیر معمولی ٹکنکل ترقی کے بعد یہ خود روس کی ایک ضرورت بن گئی۔ کیوں کہ سوویت روس جاپان کی ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مگر جاپان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے جزیروں کو ہمارے حوالے کرو، اس کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان ٹکنکل تعاون کا آغاز ہو سکتا ہے۔ موجودہ نزاع عملاً چار جزیروں پر ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ سوویت یونین اس پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ اس میں سے دو خاص جزیروں کو جاپان کے حوالے کر دے۔ جاپان کی حکمراں پارٹی کے لیڈر شنتار و آبے (Shintaro Abe) نے سوویت یونین کے پروپوزل کو بہت اہم (very important) قرار دیا۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا جاپان نے جنگ کے ذریعہ کھویا تھا، اور امن کے ذریعہ دوبارہ حاصل کر لیا۔ جزائر کوریل کی واپسی کا مسئلہ جب تک صرف جاپان کا مسئلہ تھا، روس اس کی واپسی سے انکار کرتا رہا۔ مگر جب ان جزائر کی واپسی سے خود روس کا انٹرسٹ وابستہ ہو گیا تو اس نے اپنی سابقہ پالیسی بدل دی ___ اگر آپ حریف کی ضرورت بن جائیں تو آپ کسی لڑائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader