Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بغیر اپنے حریف کو جھکانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ۲۲ جون ۱۹۹۰ کو سان فرانسسکو میں جاپان کے وزیر خارجہ اور امریکہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں جاپانی وزیر نے امریکہ کے ایک مطالبہ کو ماننے سے (very big no) سے تعبیر کیا ہے۔ وہ انکار کر دیا جس کو اخبارات نے ایک بہت بڑا انہیں مطالبہ یہ تھا کہ جاپان اگلے دس برسوں (۲۰۰۰ - ۱۹۹۱) کے درمیان اپنی آمدنی کا دسواں اور سماجی کاموں (public amenities) حصہ (چار ٹریلین ڈالر) عوامی سہولت (social infrastructure) پر خرچ کرے ۔ یعنی پارک ، سڑکوں اور سیور لائن وغیرہ کا نظام بہتر بنانے پر ۔ جاپان کے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ نیز جب جاپان ایک انتہائی دولت مند ملک ہے ۔ مگر جاپان کا سیاح حیرت انگیز طور پر دیکھتا ہے کہ جاپان میں تمدنی سہولیات اس اعلیٰ درجہ کی نہیں ہیں جو امریکہ یا مغربی جرمنی جیسے ملک میں نظر آتی ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جاپان ان مدوں میں اپنی جمع شدہ دولت کا ایک معقول حصہ خرچ کرے۔ مگر جاپان ابھی تک اس کے لئے تیار نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جاپان اس قدیم تجارتی اصول پر قائم ہے ۔ گھر بناؤ کچا، کاروبار کرو پکا۔ اس سلسلہ میں ایک لطیفہ قابل ذکر ہے ، لندن کے ایک اخبار دی انڈپینڈنٹ (The Independent) میں حال میں ایک خط چھپا ہے۔ مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ جنت وہ ہے جہاں آدمی کو انگلش مکان ، چینی باورچی ، امریکی تنخواہ اور جاپانی بیوی حاصل ہو ۔ اس کے برعکس جہنم وہ ہے جہاں کسی کو جاپانی مکان ، انگلش باورچی ، چینی تنخواہ اور امریکی بیوی دے دی جائے: Heaven consists of an English house, a Chinese cook, an American salary and a Japanese wife. On the other hand, a Chinese salary and an American wife. جاپان کے ایک ممتاز لیڈ رشنطار واشی ہارا (Shintaro Ashiharo) کا ایک آرٹیکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page