Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

1965 میں باقاعدہ طور پر جاپان کی یونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبے قائم کرنے کا کام شروع ہوا۔ 1985 میں ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا جس کا انگریزی نام (The Institute of Middle Eastern Studies) ہے ۔ اسی طرح ٹوکیو یونیورسٹی میں (Institute of Oriental Culture) قائم ہے۔ پچھلے برسوں میں جاپان میں اسلام کے موضوع پر کئی سیمینار ہوچکے ہیں۔ مذکورہ انسٹی ٹیوٹ ایک سہ ماہی مجلہ چھاپتا ہے جس کا نام میدان (Maydan) ہے۔ اس میں جاپانی اور انگریزی زبان میں مضامین ہوتے ہیں۔ ایک اخبار میں جاپان میں آنے والے روبوٹ انقلاب (robot revolution) کا ذکر تھا۔ اس کا پہلا جملہ یہ تھا ۔ آجکل جو لوگ جاپان آتے ہیں وہ اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح جاپان میں ہر صنعتی شعبہ میں روبوٹ مشینیں کام کررہی ہیں : Recent visitors to Japan are awe-struck at the proliferation of robots in every field of industrial activity. مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں جتنے روبوٹ استعمال ہوتے ہیں ، اتنے جاپان میں تنہا استعمال ہورہے ہیں۔ آگ بجھانا ، گھر کی صفائی کرنا، سمندر کی تہہوں میں سامان لے جانا ، کارخانوں میں سخت محنت والے کام کرنا ، سرنگوں میں داخل ہونا وغیرہ ، وغیرہ روبوٹ کی سائنس کو روبوٹکس (Robotics) کہا جاتا ہے۔ اب روبوٹکس کی تحقیق خلائی روبوٹ بنانے کی طرف متوجہ ہے۔ ایسے روبوٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو خلائی کارخانوں میں کام کرسکیں۔ مضمون میں مستقبل کے روبوٹ کے بارہ میں بہت سی انوکھی باتیں درج تھیں۔ میں نے ایک ہم سفر سے اس کا ذکر کیا۔ وہ انجینئر تھا۔ اس نے کہا کہ آج جب یہ باتیں کی جاتی ہیں تو وہ لوگوں کو سائنسنی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر اس صدی کے خاتمہ تک یہ سب عام بات ہو چکی ہوگی : We seem to be talking the stuff of science fiction but by the turn of the century all this may sound commonplace. میں نے سوچا کہ عین یہی بات ماڈرنِت کے معاملہ میں بھی ہے۔ آج جب لوگوں سے بات ہوتی ہے ، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page