Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

مختلف ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ ان اداروں کے تحت مسلمانوں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اس سے وابستہ ہو کر دنیا کے ہر ملک میں قیام کر سکیں۔ اس جدید امکان کے تحت بیسویں صدی میں لاکھوں مسلمانوں کو ساری دنیا میں رہنے اور کام کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ اگر مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہ ہوتا تو یہ مواقع موجودہ زمانہ میں اسلام کی عالمی اشاعت کا ذریعہ بن جاتے۔ مگر دعوتی ذہن نہ ہونے کی بنا پر یہ مواقع اشاعتِ اسلام کے حق میں استعمال نہ ہو سکے۔ یہ بلا شبہ سب سے بڑا اسلامی نقصان ہے جو موجودہ زمانہ میں ہمیں پیش آیا ہے۔ ٹوکیو کے مذکورہ لسانی اسکول کے ایک اردو ٹیچر مسٹر بدر السلام فضلی تھے ۔ وہ دسمبر ۱۹۳۳ میں جاپان پہنچے اور ڈیڑھ سال تک وہاں رہے۔ ہندوستان واپس آکر انھوں نے " حقیقت جاپان “ کے نام سے اپنا مفصل سفر نامہ لکھا تھا جو انجمن ترقی اردو دہلی سے ۱۹۳۷ میں شائع ہوا۔ اس جاپانی سفر نامہ کا ایک جزء، الرسالہ دسمبر ۱۹۷۶ میں شائع کیا جا چکا ہے۔ آج جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہیں۔ اردو۔ جاپانی لغت بھی شائع کیا جا چکا ہے۔ اردو سے متعلق اور بہت سے کام ہورہے ہیں۔ اسکی تفصیل ہفت روزہ ہماری زبان (نئی دہلی) کے شمارہ ۸ جنوری ۱۹۹۱ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ شومی اوکا را (Shumi Okawa) غالباً پہلے جاپانی عالم ہیں جنھوں نے براہِ راست عربی سے قرآن کا ترجمہ جاپانی زبان میں کیا۔ جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو ، عربی اور اسلامیات کی تعلیم کے شعبے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں نے بھی جاپان میں اسلام کی اشاعت کا کام کیا ہے۔ ۱۹۷۳ میں جب شاہ فیصل نے تیل کی سپلائی جُزئی طور پر بند کی تو اچانک دنیا کو معلوم ہوا کہ جدید صنعتی دور میں تیل کو انتہائی اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس کے نتیجہ میں عرب دنیا نے نئی اہمیت حاصل کر لی اور نتیجہ مسلم کلچر اور اسلامی علوم کا مطالعہ شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے جاپان کے اہلِ علم اسلام کے معاملہ میں یورپ اور امریکہ کی کتابوں پر انحصار کرتے تھے ، اب ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کر کے مسلم دنیا سے واقفیت حاصل کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page