سفرِ امریکہ ۶
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ بہتر سے بہتر سامان تیار کرو تا کہ ساری دنیا تمہارا سامان خریدنے پر مجبور ہو جائے۔ ہندوستانی انسان کا تجارتی مذہب دھوکا ہے ، جاپانی انسان کا تجارتی مذہب اعلیٰ کوالٹی۔ اس فرق کا مزید نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں اس قسم کے دنگے کبھی نہیں ہوتے جیسے کہ ہندوستان میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں ۔ کیوں کہ " کوالٹی " کا مزاج آدمی کو امن پسند بناتا ہے اور " دھوکے " کا مزاج فساد پسند ۔ لاس اینجلس سے ٹوکیو تک کا سفر نہایت پر سکون گزر رہا تھا۔ کیوں کہ اس میں بیشتر جاپانی مسافر تھے ۔ چند ہندوستانی مسافر بھی تھے ۔ ان کے مزاج کا سب سے پہلا مظاہرہ ایئر پورٹ پر گیٹ نمبر اک کے ویٹنگ ہال میں ہوا۔ یہاں ہندوستانی لوگ آدھ گھنٹہ کے لئے جمع ہوئے تھے۔ وہ یہاں سے اٹھے تو میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ کوڑا پڑا ہوا تھا۔ جہاز کے اندر ایک ہندوستانی مسافر نے کافی شراب پی لی ۔ اس کے بعد وہ مدہوش ہو کر چلانے لگے۔ جہاز کا عملہ بڑی مشکل سے ان کو اٹھا کر پیچھے کی سیٹ پر لے گیا ۔ میری سیٹ کے قریب ایک امریکی خاتون (Rebecca Becky Medcalf) تھیں ۔ وہ سیاح کے طور پر ہندوستان جارہی تھیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میں خدا پر عقیدہ رکھتی ہوں، مگر کسی مذہب کو نہیں مانتی : I believe in God, but not in any particular religion. انھوں نے "مسلم ریلیجن" کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا ۔ البتہ مختصر طور پر عیسائیت اور یہودیت کو پڑھا تھا ، مگر وہ اس سے متاثر نہ ہو سکیں۔ اس قسم کے لوگ مغرب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ (ندا ہب تحریف کی بنا پر ان کی عقل کو اپیل نہیں کرتے۔ مگر خدا کی معرفت انسان کی فطرت میں پیوست ہے۔ آدمی کسی خارجی مذہب کا انکار کر سکتا ہے مگر وہ خود اپنی فطرت کا انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جو مذہب کو نہیں مانتے ، وہ عین اسی وقت گہرائی کے ساتھ خدا کے وجود کے معترف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غیر محرف مذہب (اسلام) مل جائے تو وہ خدا کو بھی ماننے لگیں گے اور خدا کے بھیجے ہوئے سچے مذہب کو بھی ۔ درمیان میں جہاز بینکا ک میں اترا۔ یہاں کا وقت انڈیا کے مقابلہ میں ڈیڑھ گھنٹہ آگے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader