ایک سفر
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک بدترین دھاندلی ہے۔ ساری دنیا کے لوگ اسی دھاندلی میں مبتلا ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں تمام لکھنے اور بولنے والے اسی دھاندلی کا شکار ہیں۔ یہ ایسا جرم ہے جس کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو ہرگز خدا کی مدد ملنے والی نہیں۔ ٹائم میگزین کے سائز پر پیرس سے ایک عربی ہفت روزہ "الوطن العربی" کے نام سے نکلتا ہے۔ جہاز کے اندر اس کا شمارہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ موجود تھا۔ اس کا بھی مطالعہ کیا۔ مگر یہ ایک سرسری قسم کا پرچہ تھا۔ اس کی کور اسٹوری تھی: خلیج کا بحران ، جنگ یا جنگ نہیں (نعمة الخليج : حرب ام لا حرب)، مضمون میں دونوں پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ جنگ ہونے کا امکان بھی اتنا ہی ہے جتنا جنگ نہ ہونے کا۔ میں اگرچہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا تھا۔ اور فرسٹ کلاس کے مسافروں کو جہاز میں غیر معمولی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ مگر میں اپنی وسیع اور آرام دہ سیٹ پر اس طرح بے قرار تھا جیسے مجھے کسی عذاب خانہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ میرا یہی حال ہر سفر میں ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ دوسرے لوگ سفر سے لطف اٹھاتے ہیں۔ آخر میرا مزاج ایسا کیوں ہے کہ دنیا کی کوئی راحت میرے لئے خوشی اور سکون کا باعث نہیں بنتی۔ نفسیاتی اعتبار سے اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ اپنے مزاج کے اعتبار سے میں ایک معیار پسند (Idealist) آدمی ہوں۔ دنیا کی کوئی چیز، خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، وہ معیار ( آئیڈیل ) سے کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی بھی چیز سے، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی اچھی ہو، کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا۔ میرے اس مزاج نے میرے لئے زندگی کو ایک مسلسل کرب بنا دیا ہے۔ تاہم اس مزاج کا ایک فائدہ مجھے یہ ملا کہ میں اس سطحیت سے بچ گیا جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہوئے۔ انھوں نے اپنی کسی کتاب یا اپنے کسی عمل کو ” شادم از زندگی خویش که کارے کردم کا درجہ دیا اور کہہ کہ قیامت کے دن جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنی اس کتاب یا اپنے اس عمل کا ہدیہ خدا کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ میری معیار پسندی میرے لئے اس میں مانع ہو گئی کہ میں اپنی کسی کتاب یا اپنے کسی عمل کو یہ درجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader