Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

دو جہاز عمان سے بھیجی جاتے تھے۔ پھر روزانہ ۱۳ جہاز جانے لگے۔ اب ان کی تعداد روزانہ نو کردی گئی ہے۔ چند دن کے اندر انشاء اللہ تمام ہندوستانی اپنے وطن پہنچائے جاچکے ہوں گے۔ عمان سے طرابلس کے لئے اردن ایر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۵اک کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ راستہ میں آج (۲۲ ستمبر) اردن کے دو اخباروں کا مطالعہ کیا۔ ایک عربی روزنامہ " الرامی" دوسرا انگریزی روزنامہ (Jordan Times) انگریزی اخبار کے پہلے صفحہ کی پہلی سرخی یہ تھی کہ سعودی عرب نے اردن کو تیل کی سپلائی بند کر دی : S. Arabia cuts off oil supply to Jordan ایسا ہو نا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ اردن نے کھلم کھلا کویت عراق کے معاملہ میں صدام حسین کا ساتھ دیا ہے۔ عربی اخبار کے صفحہ ۱۸ پر چھ چو کھٹوں میں مختلف کمپنیوں اوراداروں کے اعلانات تھے۔ ان اعلانات میں اردن کے ملک حسین کے ساتھ صدام حسین کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ ہر چو کھٹے پر تائید و ولاء ( تائید اور دوستی ) جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ ان میں صدام حسین کو قائد عربی کے روپ میں دکھایا گیا اور "عہد " کیا گیا تھا کہ ظالم امریکیوں اور صلیبییوں کے خلاف جنگ میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اخبار میں کویت کے خلاف صدام حسین کی جارحیت کا مطلق کوئی ذکر نہ تھا ۔ مختلف انداز میں صرف امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ظلم اور فریب کو نمایاں کیا گیا تھا۔ ایک عراقی فوجی طارق نعیم کا خط (رسالہ) اپنے مصری فوجی دوست وسوقی ابو المعاطی کے نام نمایاں طور پر چھپا پایا گیا تھا۔ اس خط میں عراقی فوجی نے مصری فوجی کو شرم دلائی تھی کہ کیا تم ظالموں کی فوج میں شامل ہو کر میرے اوپر گولی مار نا چاہتے ہو ۔ حالاں کہ یہ سب ڈ اکو ہیں جو سمندر پار سے عربوں کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ خط کا خاتمہ اس جذباتی لفظ پر ہوا تھا : فهل تدعهم يفعلون (پھر کیا تم انھیں چھوڑ دو گے کہ وہ جو چاہتے ہیں کریں ) اردن کے اخبار میں اس قسم کی خبروں اور اس قسم کے مضمون کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ انسان بھی کیسا عجیب ہے۔ وہ دوسرے کے ظلم کو بتاتا ہے اور اپنے ظلم کو چھپاتا ہے۔ صدام حسین نے واضح طور پر کویت کے خلاف جارحیت کی ہے۔ مگر اس کی کھلی ہوئی جارحیت کا کوئی ذکر نہیں، سارا شور و غوغا صرف اس بات پر ہے کہ امریکہ اپنی فوجوں کو خلیج عرب میں کیوں آگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page